#حویلی_کی_بیٹی
#ایپیسوڈ_7
#لکھاری__وردہ_زوہیب
مراد نے حریم کو کندھوں سے پکڑ کر اس کا گال تھپتھپایا اور بولا۔
" آپ ٹھیک تو ہیں؟"
اردگرد سے بالکل بیگانہ ہوکر وہ حریم کیلئے پریشان تھا
یہ منظر دیکھ کر شاہ میر کی آنکھوں میں تو جیسے خون اتر آیا۔
" کیا کر رہا ہے مراد یہ میری بیوی ہے۔"
شاہ میر نے مراد کو پرے دھکیلتے ہوئے کہا اور حریم کو اٹھا لیا۔
مراد ایک پل کو شرمندہ ہوا۔۔۔ دل ہی دل میں خود کو لعنت ملامت کر رہا تھا۔
شاہ میر اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا اؤر بیڈ پر لیٹا دیا۔
" پانی لاؤ." اس نے فورا نوری کو ہدایت دی۔
وہ پانی لے آئی
وہ اب پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مار رہا تھا۔
سب اس کے پیچھے اس کے کمرے میں آگئے تھے۔
" مر جانے دو اسے مرتی ہے تو مر جائے۔۔۔کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے تمہیں اس کی؟"
شاہ میر کی حریم کے لئے پریشانی دیکھ کر سلطانہ خاتون نے کہا۔
" اماں اس کا زندہ رہنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے ورنہ جس مقصد کے لیے ہم اسے یہاں لائے ہیں وہ مقصد فوت ہوجائے گا۔ بات کو سمجھیں ۔۔۔ یہ وقت غلطی کرنے کا نہیں بلکہ حکمت عملی کا ہے۔"
شاہ میر نے کہا تو سلطانہ خاتون سمجھنے والے انداز میں سر کو اوپر نیچے جنبشِ دی۔
سلطانہ بیگم پاس صوفے پر بیٹھ گئیں۔
" مراد ڈاکٹر کو لیے آؤ جلدی۔ اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے شاید۔"
شاہ میر آج واقعی پریشان ہو گیا تھا۔
مراد ڈاکٹر کو لینے گیا۔
" ڈرامہ کر رہی ہے یہ لڑکی۔" سلطانہ خاتون نے کہا۔
" نہیں۔۔۔ آج یہ ڈراما نہیں کر رہی۔" شاہ میر نے ہولے سے کہا۔
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آگیا اور اُسے دیکھنے لگا۔
" شاید اسٹریس کی وجہ سے ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے۔ان کو آرام کی شدید ضرورت ہے۔ میں نے نیند کا انجکشن دے دیا ہے۔آج رات انہیں آرام کرنے دیں۔اور کوشش کریں کہ کسی قسم کا شور نہ ہو۔"
ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
شاہ میر نے انگلی کے اشارے سے سب کو کمرے سے باہر نکلنے کا کہا اور خود بھی باہر نکل آیا۔
وہ سلطانہ بیگم کے ساتھ اُنکے کمرے میں بیٹھا تھا۔
" تم کچھ زیادہ ہی پریشان نہیں ہو رہے ہو اس لڑکی کے لیے؟"
سلطان بیگم نے جتانے والے انداز میں کہا۔
" پریشانی والی بات ہے تو پریشان ہو رہا ہوں۔" شاہ میر بولا۔
" ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔" سلطانہ خاتون نے کہا۔
" آپ کو اندازہ ہے کہ اگر وہ لڑکی مر گئی تو ہمارے لیے کتنا بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو شاہ نواز اور ظفر اور ساری برادری یہی سوچے گی کے سردار شاہ میر سلطان نے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ اک لڑکی کو قتل کر کے لیا ہے۔ اس طرح سے بدنامی تو ہوگی ہی ہوگی اوپر سے ظفر پھر سے بپھر جائیگا۔۔۔ مجھے اپنی نہیں اپنے چھوٹے بھائی عبید کی فکر ہے۔ وہ شہر میں پڑھتا ہے وہاں کھلم کھلا گھومتا ہے۔ میں تو یہاں رہتا ہوں اور یہاں کوئی نہیں آ سکتا۔۔۔ مگر خطرہ عبید کو ہوگا پھر۔۔۔ جو ظفر اتنی آسانی سے جنید کو مار سکتا ہے وہ دوبارہ بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ اماں میں اسی لیے پریشان ہوگیا ہوں۔"
شاہ میر نے کہا۔
"ہاں یہ بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے میں نے تو یہ سوچا ہی نہیں۔"سلطانہ بیگم نے کہا.
" لیکن ایک بات میری یاد رکھنا۔۔۔ وہ لڑکی ہمارے دشمن کی بہن ہے۔کبھی بھی اپنے دل میں اس کے لئے کوئی نرم گوشہ مت بنانا۔۔۔ کبھی بھی اس کے حسن کے آگے بہک مت جانا۔ تمہارا اُس سے جائز رشتا ہے۔ اور وہ اس بات کا فائدہ اٹھا کر تم کو اپنے بس میں کرنے پوری کوشش کرے گی۔یہ جو عورت ذات ہوتی ہے نا یہ مرد کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیتی ہے۔تمہیں ہوش سے کام لینا ہوگا۔اپنا مقصد ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔اور سب سے بڑی بات اس لڑکی سے فاصلہ رکھنا۔"
سلطانہ بیگم نے جتانے والے انداز میں کہا۔
" آپ غلط سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے ہمارے بیچ۔" شاہ میر نظریں چراتے ہوئے بولا۔
" آج صبح تم نے اس لڑکی کو اپنے کمرے میں طلب کیا تھا کیا یہ بات سچ ہے.؟"
سلطانہ بیگم کے دل کی بات منہ پر آگئی۔
" میں اس سے ظفر کے متعلق پوچھنا چاہ رہا تھا۔اس سے اگلوانہ چاہ رہا تھا کہ ظفر کہا ہے۔۔۔میرے خیال سے اسے ضرور معلوم ہوگا۔" شاہ میر نے کہا۔
" جب تم اتنی نرمی دکھاؤ گے تو وہ کیسے اگلے گی؟؟؟ اس مقصد کے لئے تو تمہیں بہت زیادہ سختی دکھانی پڑے گی۔وہ کہاوت تو تم نے سنی ہوگی کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔ وہ تمہاری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جتنی نرمی دکھاؤ گے وہ اتنا ہی شیر بنتی جائے گی تمہارے آگے۔۔۔ تھوڑا سختی سے کام لو۔ غصّہ دکھاؤ اپنا۔۔۔ "
سلطانہ خاتون اس کا برین واش کر رہی تھیں۔
" مجھے بہت عجیب لگتا ہے اماں خود سے کمزور پر ظلم کرتے ہوئے۔۔۔ وہ بھی ایک لڑکی پر ۔۔۔ کیا سردار شاہ میر سلطان اتنا کمزور اور بزدل ہے؟"
شاہ میر نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
" اس طرح سے سردار نہیں بن سکتے تم شاہ میر۔۔۔ جانتی ہوں تم فطرتاً ایک نرم طبیعت انسان ہو۔لیکن انسان کو اپنے آپ کو حالات کے سانچے میں ڈھالنا ہی ہوتا ہے ورنہ اس کے لیے بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ "
سلطانہ بیگم مسلسل کوشش کئے جا رہی تھیں۔ان کا یہی مقصد تھا کہ شاہ میر حریم پر تشدد کرے۔ تاکہ ان کے دل کو سکون ملے۔ وہ خود بھی شاہ میر کی وجہ سے حریم پر ہلکا ہاتھ رکھے ہوئے تھیں۔
سلطانہ بیگم ایک سخت طبیعت اور ظالم قسم کی خاتون تھیں۔۔۔ اور جوان بیٹے کی موت کی بعد تو وہ مزید پتھر ہو گئی تھیں۔
سلطان میر سے زیادہ حویلی میں انکا روب و دبدبہ رہا تھا ہمیشہ سے۔ سلطان میر سے لے کر ہر کوئی ان کے اشاروں پر چلتا تھا۔کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ بھی کرے۔
اس حویلی میں ان کے اور بھی کافی رشتے دار رہائش پذیر تھے۔کچھ ان میں سے فی الحال شہروں میں گئے ہوئے تھے۔
سب سے زیادہ روب اُن کا شاہ میر پر چلتا تھا۔
وہ جب سلطان میر کی دوسری بیوی بن کر اس گھر میں آئی تھیں تو انہوں نے یہی طے کیا تھا کہ وہ شروع سے ہی شاہ میر کو اپنی مٹھی میں لے لیں گی۔
شاہ میر بچہ تھا اور اس نے اپنی مامتا اس پر نچھاور کی۔۔۔ اور ہر پل اسے یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے سگے بیٹوں سے زیادہ شاہ میر سے محبت کرتی ہیں۔ اور شاہ میر بھی ان کی ہر بات پر یقین کر لیتا تھا۔
ابھی دوپہر کا وقت تھا۔
" اماں میں باہر کام سے جارہا ہوں۔" وہ رخصت لے کر چلا گیا۔
باہر آیا اور نوری کو آواز دی۔
" حریم بی بی کا خاص خیال رکھو میرے واپس آنے تک۔"
شاہ میر نے نوری کو ہدایت دی۔
" حریم کون؟"نوری کو سمجھ نہیں آیا۔
" میری بیوی۔ " شاہ میر نے کہا۔
" لیکن سائیں آپ کی تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی ہے۔" نوری سدا کی معصوم۔۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ جو شادی دھوم دھام سے ہوتی ہے وہی شادی شادی کہلاتی ہے اور وہی بیوی بیوی کہلاتی ہے۔
" ونی والی لڑکی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ شادی نہیں نکاح تو ہوا ہے نا۔" شاہ میر نے کہا۔
" سائیں ۔۔۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ شادی اور نکاح میں کیا فرق ہے؟"
نوری ہمیشہ سے اس طرح کی باتوں میں الجھ جاتی تھی۔
شامیر کو اس کے معصومانہ سوال بہت اچھے لگتے تھے۔۔۔ لیکن فی الحال وہ پریشان تھا اور اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
" جو دھوم دھام سے ہو وہ شادی کہلاتی ہے۔۔۔ اور جو سادگی سے ہو وہ صرف نکاح۔ " شاہ میر نے جواب دیا۔
" ہممم۔" نوری نے سمجھنے والے انداز میں اثبات میں سر ہلایا۔
شاہ میر باہر چلا گیا۔
___________________
( یہ مجھے کیا ہوگیا تھا اچانک۔۔۔ کیوں میں خود پر قابو نہ رکھ سکا اور سب کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی۔۔۔ کیا سوچ رہا ہو گا اس وقت شاہ میرے متعلق۔۔)
مراد گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا سوچتا جا رہا تھا۔
سامنے سیٹ پر شاہ میر بیٹھا تھا۔
دونوں ہی بہت گہری سوچ میں تھے اور الگ سیچویشن میں پھنس گئے تھے۔۔۔
ان دونوں کی دوستی بہت پرانی تھی۔
مراد صرف ایک ملازم نہیں تھا بلکہ شاہ میر کے دور کا رشتے دار بھی تھا۔۔۔ اس کی بہادری کی وجہ سے شاہ میر نے نوکری پر رکھ لیا تھا۔
ایک دن اس نے مراد کو کسی سے لڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا لڑکپن میں۔۔۔ اس نے ایک ساتھ کئی لڑکوں کو ڈھیر کردیا تو شاہ میر بہت متاثر ہوا اس کی طاقت سے۔
اسی دن وہ مراد کو اپنے ساتھ حویلی لے آیا اور اپنا خاص بندہ بنا لیا۔ پچھلے تیرہ چودہ سال سے وہ شاہ میر کے ساتھ تھا۔۔۔ اس کا دوست تھا اس کا ہمراز تھا۔۔۔اس کا باڈی گارڈ تھا۔۔۔
کیونکہ وہ لڑکپن میں اسے لے کر آیا تھا تو اس وقت سرداری والی طبیعت نہیں تھی اس کی اس لئے دونوں میں دوستی ہو گئی تھی۔
وہ ہر کام مراد سے مشورہ لے کر ہی کرتا تھا۔
مگر آج والے واقعے کے بعد مراد نے محسوس کیا کہ شاہ میر اس سے بات نہیں کر رہا ہے۔
راستہ لمبا تھا اور ان دونوں کے مابین خاموشی طویل ہوتی جا رہی تھی۔
" ناراض ہو؟" مراد نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
" تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ وہ میری بیوی ہے۔۔۔ تمہاری جگہ اگر کوئی اور اسے ہاتھ لگا تو یقین میں اسے جان سے مار دیتا۔ مگر میں تمہیں مار نہیں سکتا تھا اس لئے ضبط گیا۔"
شاہ میر نے انتہائی سخت تاثرات کے ساتھ جواب دیا تو مراد کا دل ایک پل کو ڈوب گیا۔
زندگی میں پہلی بار شاہ میر اس سے ناراض تھا۔۔۔ اور وجہ تھی ایک لڑکی۔۔۔
________________
ولید بلاوجہ اپنا فیس بک اسکرول کرتا جا رہا تھا کہ اچانک اسے واٹس ایپ پر ایک انجان نمبر سے ویڈیو موصول ہوئی۔
اس نے ایک نظر انجان نمبر کو دیکھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ کس کا ہے۔۔۔
جب نمبر کو پہچان نہ سکا تو اس نے ویڈیو اوپن کی۔
ویڈیو شروع ہوئی تو وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا۔
سامنے جو منظر تھا اس نے اس کا دل دہلا کر رکھ دیا تھا۔
یہ ویڈیو ایک منٹ کی تھی۔پھر شاید اس سے بھی کم۔
لیکن یہ چھوٹی سی ویڈیو ایک داستان سنا رہی تھی۔
ایک مظلوم کی بربادی کی داستان۔۔۔
ولید کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔
اسے لگا کہ اس کے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی اسی پل۔
" شاہ میر۔" اُس نے لرزتی ہوئی آواز میں شاہ میر کا نام لیا۔۔۔ اُس کی آواز کی یہ لارزاھٹ غصے کی وجہ سے تھی۔
وہ فورا بھاگتا ہوا حویلی کے لاؤنچ میں آ گیا۔
" چچا سائیں ۔۔۔ چچا سائیں۔"
وہ اتنی قوت سے چلا رہا تھا کہ تمام گھر والے جمع گئے جو وہاں موجود تھے۔
" کیا ہوا ہے ولید کیوں چلا رہے ہو خیریت تو ہے؟"
اس کی پھوپھو نسیمہ نے کہا۔
اس حویلی کے مکینوں کے سر پر پچھلے آٹھ مہینے سے ایک تلوار لٹکی ہوئی تھی۔۔ جو کہ خون بہا دینے کے باوجود بھی نہیں ہٹی۔
" برباد کر دیا چچا سائیں نے حریم کو۔۔۔ ظفر کو بچانے کے لیے میری حریم کی قربانی دے دی۔دیکھیں آپ سب لوگ یہ کیا سلوک ہو رہا ہے اس کے ساتھ."
ولید نے موبائل ریان کی طرف اچھالتے ہوئے کہا۔
باری باری سب ویڈیو دیکھنے لگے۔
" اتنا برا سلوک بھول جیسی حریم کے ساتھ وہ بھی پہلے دن۔۔۔ اتنا بھیانک استقبال کیا گیا میری بچی کا اس حویلی میں؟؟؟ "
نسیمہ پھوٹ کر رونے لگی اور جو بھی ویڈیو دیکھتا گیا رونے لگا۔
" حریم۔۔۔۔" آمنہ بیگم نے دیکھا اور گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
" کیا ہوا خیریت تو ہے؟" شاہنواز کمرے سے باہر نکلے شور سن کر۔
" دیکھ لیں نتیجہ اپنے اس فیصلے کا آپ اپنی آنکھوں سے۔۔۔ " ولید نے ویڈیو ان کو دکھانا شروع کی۔
ویڈیو دیکھتے وقت ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو۔
" خاموش ہو جاؤ تم سے رونا دھونا بند کرو اور اس کے اچھے نصیب کے لئے دعا کرو۔" شاہنواز سے بولا نہیں جا رہا تھا ٹھیک طریقے سے۔
انہیں اندازہ کرکے ایسا ضرور ہوگا مگر پھر بھی۔۔۔ آنکھوں سے یہ سب دیکھ کر انہیں لگا ان کا دل بند ہو جائے گا۔۔۔
لیکن ان کا دل بند نہیں ہوا تھا۔۔۔ ایسا ہونا ہوتا تو اسی وقت وہ جاتا جب انہوں نے حریم کو رخصت کیا تھا۔۔۔
___________________
شاہ میر رات گئے لوٹا۔
اُسے صبح والا واقعہ یاد آیا۔۔۔
راہداری میں ہی اسے نوری مل گئی۔
" حریم کو ہوش آیا طبیعت کیسی ہے اب اس کی؟"
شاہ میر نے نوری کو دیکھتے ہوئے فوراً سوال دغا۔
" شام کو ہوش آیا تھا میں نے کھانا کھلا دیا اور پھر کہنے لگی کہ نیند آ رہی ہے اور سو گئی۔۔ تب سے لے کر سو رہی ہے۔کہہ رہی تھی مجھے کسی نے نیند کا انجکشن دیا ہے کیا؟ "
نوری نے بتایا۔
" کھانا نہیں دیا تم نے اسے؟ " شاہ میر بولا۔
" شام کو دیا تو تھا تب سے لے کر سو رہی ہے۔" نوری بولی۔
" ٹھیک ہے تم جاؤ۔ اور میرا کھانا کمرے میں لے آؤ۔"
شاہ میر نے کہا اپنے کمرے کی طرف بڑھا آرام سے دروازہ کھولا۔
دیکھا تو حریم اپنے اوپر کمفرٹ تانے سو رہی ہے گہری نیند۔
وہ اس کے قریب آیا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کیا۔ اُسے بخار نہیں تھا۔
پھر وہیں پر اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور اسے دیکھتا رہا۔
تھوڑی دیر بعد نوری کھانا گرم کر کے لائی۔اور شاہ میر کے سامنے رکھ دیا۔
اُس نے ٹرے اٹھائی اور بیڈ کے دوسری جانب آکر بیٹھ گیا اور کھانا کھانے لگا۔
کھانا کھاتے وقت وہ بار بار حریم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اس نے کھانا ختم کرنے کے بعد برتن ایک طرف رکھے اور بیڈ میں آ کر لیٹ گیا۔
وہ بہت تھک چکا تھا اور سونا چاہتا تھا۔
لیکن وہ سو نہیں پا رہا تھا۔۔۔
بس سامنے اُس پری پیکر کو دیکھتا جا رہا تھا۔

Comments
Post a Comment