ناول: بےوفا (سیزن ٹو)
رائٹر: سدرہ شیخ
قسط نمبر: 1۔
"میں تو سب بھلا کر تمہیں اپنانا چاہتا تھا بریرہ۔۔۔"
"بلاج۔۔۔"
بریرہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا بلاج نے پیچھے جھٹک دیا تھا اسکا ہاتھ اور اسکے منہ سے ایک لفظ نکلا تھا بریرہ کے لیے۔۔۔
۔
"بےوفا۔۔۔"
اور وہ اونچائی سے نیچے جا گرا تھا اس گرتے ہوئے پانی میں۔۔۔۔
۔
"چشمش تم میری زندگی ہو تم سے جدائی میری موت ہوگی۔۔۔"
"بلاج حمدانی یا تو میری زندگی میں آتے نا اگر آگئے ہو تو جدائی کا نام نا لینا مجھے مار دینا۔۔۔"
۔
"بلاج ۔۔۔"
اسکی آواز بند سی ہوگئی تھی جب بلاج کا سر ایک پتھر سے جا ٹکرایا تھا وہ جیسے ہی پانی میں گرا تھا پانی کا تیز بہاؤ اسکے وجود کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا
"بلاج۔۔۔۔"
اب اسکی آواز ایک سسکی ایک آہ کے ساتھ نکلی تھی۔اور اگلے پل اس نے بھی اس اونچائی سے چھلانگ لگا دی تھی اس پانی میں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"آپ کو نہیں لگتا اب آپ زیادتی کر رہے ہیں وجیح تایا جی۔۔؟؟"
بہرام وجیح شاہ کے کیبن میں جیسے ہیں آیا تھا بہت سی گن اسکی طرف ہوگئی تھی
"یہ ہمارا ہی بندہ ہے ہتھیار نیچے رکھیں سب۔۔"
ارسل اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا۔۔
"بہرام تم مجھے مجبور کر رہے ہو میں تمہیں یہاں سے زبردستی نکلوا دوں۔۔"
اپنی کرسی میں جس طرح وجیح شاہ آرام سے بیٹھے ہوئے تھے بہرام سمجھ گیا تھا یہ شخص وہیں مافیا لیڈر ہے جس کے دل کی جگہ پتھر ہے۔۔
"آپ کو سچ میں فرق نہیں پڑ رہا بریرہ اس شخص کے قبضے میں ہے۔۔؟"
"نہیں مجھے نہیں پڑ رہا تمہیں بھی نہیں پڑنا چاہیے کیا پتا وہ وہاں اپنی مرضی سے گئی ہو کیا پتا اسکا عشق۔۔۔"
بہرام دو قدموں کی دوری پر تھا وہ جس طرح وجیح شاہ کا گریبان پکڑنے کے لیے آگے بڑھا تھا
"بس لڑکے ایک قدم آگے بڑھایا تو یہیں کام تمام کردوں گا۔۔"
"ایک اور مافیا ڈون۔۔؟؟ ہاتھ لگا مجھے۔۔۔یہ جو سامنے بیٹھیں ہیں مجھ میں انکا خون ہے۔۔تو میرا ایک بال بھی باکا نہیں کر سکتا۔۔۔"
بہرام نے سلمان صاحب کو پیچھے جھٹک دیا تھا
"آپ لوگوں نے جو بدلہ لینا ہے لو حمدانی فیملی سے پر برہ کہاں ہے مجھے بتا دیں۔۔آپ گنڈے موالی لوگوں دوسرے گنڈے موالی لوگوں کے اڈے اور ٹھکانے اچھے سے جانتے ہیں۔۔مجھے بس بلاج حمدانی کا پتہ دے دو پلیز۔۔۔۔"
بہرام نے ہاتھ جوڑ دئیے تھے۔۔۔ارسل نے منہ پیچھے کرلیا تھا اور وجیح شاہ خاموش ہوگئے تھے۔۔
"تم نے جو کہنا تھا کہ دیا۔۔؟ بچے اب جاؤ یہاں سے اور پاکستان جاکر اپنی یونیورسٹی کے بچوں کو پڑھاؤ جاؤ یہاں سے شاباش۔۔۔"
وجیح شاہ کی بات پر بہرام نے وہ کرسی اٹھا کر اس شیشے کے ٹیبل پر مار دی تھی
"وہ آپ کی بیٹی تھی ڈیم یو تایا جان۔۔آپ کی دشمنی میں جل گئی اور اب دماغ دیکھا رہے ہیں۔۔
سچ سے منہ موڑ کر سچ بدل نہیں دیں گے۔۔آپ قصوروار ہیں یہ جو ہوا۔۔
اس لیے سوچتا تھا میرے والد جیسا محبت کرنے والا انسان کیسے بڑے بھائی سے علیحدہ ہوگیا۔۔
اب سمجھ آیا انہوں نے اپنی فیملی بیوی بچوں کو اہمیت دی نہ کہ یہ ہتھیار یہ خون خرابے کو۔۔۔
اینڈ یو مسٹر ارسل۔۔۔"
بہرام نے انگلی کا اشارہ کیا تھا۔۔
"تم بڑے بھائی تھے پر کاشان تمہاری ذمہ داری پوری کرتا آیا۔۔۔آج اگر وہ زندہ ہوتا تو کیا جوان بہن کو اکیلا چھوڑتا کسی گھٹیا انسان کے پاس۔۔؟؟"
۔
۔
بہرام آفس کا دروازہ اتنی زور سے مار کرگیا تھا۔۔۔
"اسے تو میں یہیں مار دوں۔۔"
"بس سلمان وہ بھتیجا ہے میرا بیٹا ہے۔۔غصے میں ہے۔۔۔تم جا سکتے ہو۔۔۔"
"میں تو چلا جاؤں گا۔۔۔پر تمہیں کہیں تمہارے یہ رشتے پھر سے کمزور نہ بنا دیں وجیح ایک بار کمزور پڑے تو دیکھا تھا نا کیا ہوا تھا تمہارے خاندان کے ساتھ۔۔؟
زمرد حمدانی بلاج حمدانی کو سخت سزا دو تمہاری بیٹی کو کڈنیپ کیا انہیں نے۔۔۔
جرات دیکھو زرا "
"وہی دیکھ رہا ہوں سلمان جرات ہی دیکھ رہا ہوں۔۔میری بیٹی کو اغوا کر کے میرے قہر کو دعوت دی ہے ان لوگوں نے۔۔۔"
انکی غصے سے بھری آواز پر ارسل چونک گیا تھا اتنے عرصے بعد ارسل نے اپنے بابا سائیں کے منہ سے یہ لفظ سنا تھا شاید۔۔۔
۔
"میں دیکھتا ہوں پتا کرتا ہوں کس بل میں چھپا ہوا ہے بلاج حمدانی اور کہاں ہے ہماری بچی بریرہ۔۔۔"
سلمان صاحب لہجے میں دھیما پن لیکر باہر آگئے تھے۔۔۔۔
۔
"ہاہاہاہاہا بچی مائی فٹ۔۔۔اس سے پہلے وہاں پہنچنا پڑے گا اور ان دونوں کو ختم کرنا ہوگا۔۔
تاکہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں۔۔۔"
۔
وہ ایک فون پر کچھ خکم دیکر وہاں سے ہنستے ہوئے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"زندگی کیسی تھی اس لڑکی کی جس کا نام بریرہ شاہ تھا۔۔۔کب کسی نے اسکے ساتھ بھلا کیا کب کسی نے اس پر ترس کھایا۔۔؟ ہمدردی دیکھائی۔۔؟ سب نے ہی دھتکارہ اسکو۔۔۔
وہ لڑکی جسے محبت نے نفرتوں کے سمندر میں غوتہ کھانے پر مجبور کردیا تھا تب
اور آج پھر اس انچائی سے اس شخص کو بچانے کے لیے سمندر کی لہروں میں غوتے کھا رہی تھی پر اس شخص کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہی تھی۔۔
۔
جب تیرتے تیرتے بلاج کا ہاتھ پکڑے وہ دوسرے نزدیک کنارے پر بلاج کو لے آئی تو اس نے پہلے بلاج پیٹ پر جہاں اسی نے زخم دیا تھا اپنی قمیض کے ایک کونے سے کپڑا بھاڑ کر بلاج کے زخم پر باند دیا تھا۔۔
پھر بلاج کے سینے پر ہاتھ رکھ کر منہ سے پانی نکالنے کی کوشش کی تھی۔۔
"بلاج کبھی نہیں سوچا تھا ایسا مقام آئے گا ہمارے رشتے میں۔۔۔کتنا توڑو گے مجھے۔۔؟؟"
آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے اور بلاج کے چہرے پر گرنا شروع ہوگئے تھے
جب اس نے 'سی-پی -آر' دینے کے لیے بلاج کے چہرے کی طرف اپنا چہرا جھکایا تھا۔۔
"بلاج حمدانی تمہیں میں اتنی جلدی کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔"
اس بار اس نے غصے سے اپنے لب بلاج کے منہ پر رکھ کر پھر سے مصنوعی سانس دینے کی کوشش کی تھی۔۔۔
بلاج کو کھانسی آئی تھی منہ سے پانی جیسے ہی نکلا تھا بریرہ شاہ نے سکون کا سانس لیا تھا
وہ کیوں سانس روک کر بیٹھی تھی۔۔؟
وہ بھی بلاج کے پاس تھک کر لیٹ گئی تھی۔۔۔بلاج کی طرف سے زرا سی حرکت ہوتی تھی بریرہ کی آنکھیں کھل جاتی تھی۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر بلاج کے گیلے چہرے پر رکھا تھا اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی۔۔۔جیسے وہ خود بھیگی ہوئی تھی پانی سے
۔
"دو کنارے میں اور تو،،،،
کیسے ملیں،،،؟؟ کیسے جُڑے۔۔۔؟؟؟
ہائے۔۔۔۔
ہم دونوں کے ہیں الگ راستے۔۔۔
کیسے ملیں،،،،،کیسے مُڑے۔۔۔؟؟؟"
۔
بریرہ نے اپنا سر بلاج کے سینے پر رکھ لیا تھا بلاج کی چلتی دھڑکنے اسے سکون دے رہیں تھیں قرار دے رہیں تھیں۔۔
۔
"اگر بچانا تھا تو مارا کیوں تھا اسے۔۔؟؟"
ایک ہی سوال گھوم رہا تھا اسکے دماغ میں۔۔
"میں نے اسے نہیں مارا تھا۔۔۔و۔۔۔"بریرہ اٹھ گئی تھی وہاں سےبلاج کی چلتی سانسیں دیکھ کر اسے سکون سا ملا تھا۔۔۔پر اسکو ملنے والا سکون شاید کچھ لمحات کا تھا جب اسے بھاری قدموں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں تھیں بھاری بوٹوں کی۔۔۔اور کچھ آوازوں نے اسکے ہواس لے لئے تھے جیسے۔۔۔
۔
"یہیں ہوں گے وہ دونوں۔۔ان دونوں کو یہیں مار دینا۔۔پر بلاج حمدانی کی لاش کو ساتھ لیکر جانا ہے باس کا آرڈر ہے ۔۔"
۔
"بلاج۔۔۔"
بریرہ نے سرگوشی کی تھی جب وہ بلاج کی طرف بھاگی تو وہ ابھی بھی بےہوشی میں تھا
بلاج۔۔۔بلاج اٹھو۔۔۔"
پر کوئی حرکت نہیں تھی۔۔۔بریرہ نے بلاج کے دونوں بازو پکڑ کر اسے گھسیٹ کر جھاڑیوں کی طرف لے گئی تھی۔۔ایک درخت کے پیچھے بلاج کو لٹا دیا تھا۔۔۔
۔
"میرا شک سہی نکلا وہ دونوں یہیں تھیں یہ دیکھو نشان۔۔۔انکا پیچھا کرو جلدی۔۔۔"
اپنی اپنی گن نکالے وہ لوگ پھیل گئے تھے ہر طرف۔۔
"بریرہ۔۔۔"
بریرہ نے بلاج کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا اسکی آنکھیں آہستہ آہستہ کھل رہی تھی
"شش۔۔۔"
"بلاج حمدانی کے اتنے ٹکڑے کرے گے کہ۔۔"
بریرہ نے ایک جھٹکے سے پیچھے دیکھا تھا جب یہ بات اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔
وہ بلاج کو بہت آہستہ سے وہاں لٹا کر اسکے اوپر کچھ جھاڑیاں اور پتے ڈال چکی تھی اور پھر وہ سبز پودوں کے پیچھے چھپتے ہوئے ایک گارڈ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
"اسکے ٹکڑے کرنے کے لیے مجھے مارنا پڑے گا یو باسٹرڈ۔۔۔"
بریرہ نے ایک لکڑی اٹھا کر اسکے سر پر دے ماری تھی۔۔وہ جیسے ہی گرا تھا بریرہ نے اسکی گن اٹھا لی تھی
"اگر گولی چلائی تو تیرے عاشق کو مار دوں گا۔۔"
بریرہ کے ہاتھ رک گئے تھے جب بلاج کی باڈی کو ان لوگوں نے درمیان میں پھینک دیا تھا۔۔
بریرہ نے گن نیچے کردی تھی۔۔۔
"ہاہاہا نکل گئی جب اکڑ۔۔؟؟ تیرے سامنے تیرے یار کو ماریں گے۔۔"
اس نے جیسے ہی بلاج کے پیٹ پر کک ماری تھی بریرہ کی آنکھوں میں ایک آگ جل اٹھی تھی اور اس نے فائر کردی تھی اسی گارڈ کے پاؤں میں۔۔
"ہاتھ لگاؤ اسے۔۔۔ہمت ہے لگا ہاتھ۔۔۔"
اس نے ان سب کو زخمی تو کردیا تھا پر ایک وار اسکے سر پر بھی ہوا تھا پیچھے سے۔۔۔
۔
"بچ یو۔۔"
وہ گرتے گرتے بھی اس آخری گارڈ کو زخمی کر گئی تھی اور بلاج کے پاس ہی گر گئی تھی۔۔۔
"ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔۔۔یہ لوگ یہاں کسی ہیلی کاپٹر میں یا کسی کشتی میں آئے ہوں گے مجھے دیکھنا پڑے گا۔۔"
وہ بڑبڑا رہی تھی بلاج کے زخم سے خون نکل رہا تھا پر زخمی وہ خود بھی بہت ہوگئی تھی پر اسے خود سے زیادہ اس شخص کو یہاں سے زندہ واپس لے جانا تھا جس شخص نے اسے جیتے جی مارا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"ڈیم اِٹ کس طرح کے لوگ ہیں یہ۔۔۔"
بہرام نے اپارٹمنٹ میں آتے ہیں اپنا کوٹ دوسری طرف پھینکا تھا وہ کوٹ جہاں جا کر گرا وہاں ٹیبل سے لیمپ نیچے گرا تھا اور شور سے روم کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔
"بہرام بیٹا۔۔"
"امی پلیز ابھی نہیں۔۔"
وہ سر پکڑ کر صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔۔
"ابھی نہیں تو کبھی نہیں مسٹر بہرام۔۔۔"
پری بھی کندھے کے ساتھ اپنا سر رکھ کر بہرام کے پاس جا بیٹھی تھی
بابا۔۔۔"
"پری بیٹا ابھی رات بہت ہوگئی ہے آپ دادو کے ساتھ۔۔۔۔"
پر پری نے بہرام کی گود میں سر رکھ لیا تھا اور آنکھیں بند کرلیں تھیں
"بابا پری کو اور اگنور مت کریں بریرہ ماسی کی طرح۔۔۔"
بہرام نے پری کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
"بچے میں آپ کو اگنور نہیں کر رہا تھا بس میں بیزی تھا۔۔۔ایم سوری بابا کی جان۔۔۔۔"
پری کو اپنی گود میں اٹھا کر وہ اپنے کمرے میں لے گیا تھا اپنی امی سے اجازت لے کر۔۔۔
"آج پری کو بابا کہانی سنائیں گے۔۔۔"
"بابا مجھے بریرہ ماسی سے ملنا ہے۔۔"
وہ سٹوریز والی بک پکڑتے ہوئے اسکے ہاتھ رک گئے تھے۔۔
پری بیٹا۔۔۔وہ ابھی تم سے نہیں مل سکتی"
"تو کیا وہ بھی ماما کی طرح مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔۔؟"
پری کی بات نے بہرام کو شوکڈ کردیا تھا
"پری یہ سب کیا بول رہی ہو۔۔؟ "
اس نے اونچی آواز میں بات کی تو کنزہ بیگم بھی اندر آگئیں تھیں
"ندا پھپھو کہتی ہیں میری وجہ سے میری ماما چلی گئیں اور پھر حفصہ چچی بھی یہی کہتیں تھیں
میں منحوس ہوں۔۔"
بہرام کی نظریں اس وقت اپنی امی پر تھیں جو حیران ہوگئیں تھیں پری کی باتوں سے
"آپ کی ماما آپ سے بہت پیار کرتی تھی پری میری بچی وہ تو آپ کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔"
"تو پھر کیوں دور چلی گئیں وہ بابا۔۔؟"
بہرام نے پری کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا وہ یہاں مجبور تھا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا
"پری وہ مجبور تھیں انہیں جانا تھا۔۔۔"
"بابا آپ تو میرے ساتھ رہیں گے نا۔۔۔؟؟ اور بریرہ ماسی۔۔؟؟"
"میں تو ساتھ رہوں گا ہمیشہ۔۔پر بریرہ ماسی سے انکی مرضی آپ کو خود پوچھنی پڑے گی۔۔۔"
اسکے بعد پری نے کچھ نہیں کہا تھا بہرام ویسے ہی اپنی جگہ پتھر بنا ہوا تھا۔۔
جب پری سو گئی تھی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا اور اپنی امی کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا جو رو رہیں تھیں اس وقت سے پری کی باتیں سن کر۔۔
"بہرام میں۔۔"
"امی میں تو پری کو گھر میں آپ سب کے حوالے چھوڑ کر جاتا تھا یونیورسٹی میں تو کام پر جاتا تھا تو بےفکر ہوکر جاتا تھا کہ میری بچی میرے بہن بھائیوں کے پاس محفوظ ہے پر امی۔۔؟؟"
اس نے جیسے ہی اپنی امی کی طرف دیکھا انکی آنکھیں بھی بھی گئیں تھی
"بہرام مجھے آج تک پتا ہی نہیں چلا اس معصوم سی بچی کو گھر میں سب کس نگاہ سے دیکھتے رہے۔۔
حفصہ تو غیر تھی ابھی ابھی بیاہ کر آئی۔۔۔پر ندا۔۔وہ تو اپنا خون ہے اس نے پری کے معصوم ذہن میں اتنی بڑی باتیں ڈال دی۔۔۔"
اپنے ہاتھوں میں اپنا منہ چھپا لیا تھا انہوں نے۔۔
"امی میری بچی منحوس نہیں ہے میری زندگی ہے۔۔میں نے غلطی کی امی جو میں یقین کرتا آیا میری بچی میری ذمہ داری تھی میرا فرض تھا ہر طرف نظر رکھنا۔۔"
اپنی شرٹ سیدھی کرکے وہ اپنی گاڑی کی چابی سائیڈ ٹیبل سے اٹھا چکا تھا
"بہرام بیٹا اس وقت کہاں جا رہے ہو۔۔"
"بریرہ کو ڈھونڈنے۔۔۔اسکے گھر والے تو ایسے ہی تھے مطلبی خودغرض۔۔پر میں بریرہ کو اس شیطان کے ساتھ اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔"
۔
"ڈھونڈنے۔۔؟پر تم نے تو کہا تھا بیٹا وہ کنٹڑی سے۔۔"
"جھوٹ بولا تھا میں نے تاکہ آپ لوگ پریشان نہیں ہوں۔۔۔"
وہ کنزہ بیگم کو ایک نئی فکر اور پریشانی میں نئے سوالوں کے ساتھ وہیں چھوڑ گیا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"ڈاکٹر۔۔۔ڈاکٹر۔۔۔"
وہ جب ہسپتال داخل ہوئی تو لوگ پیچھے ہونا شروع ہوگئے تھے جس طرح اسکی حالت ہورہی تھی سر سے بھی خون نکل رہا تھا بازو سے بھی پاؤں سے بھی۔۔
"ڈاکٹر۔۔۔نرس۔۔۔"
جب وارڈ بوائے آئے تو بریرہ نے ایک نرس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اسے کھینچ کر باہر لے گئی تھی جہاں ایک گاڑی کا پچھلا دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔۔
"یہ پئشنٹ ہے۔۔پلیز۔۔ہیلپ ہم۔۔"
نرس کے اشارے پر وارڈ بوائے نے سٹریچر پر لٹا دیا تھا بلاج کو اور اندر لے گئے تھے۔۔وہ بھی تیز قدموں سے اندر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔اور جس ایمرجنسی روم میں بلاج کو لےجایا گیا تھا بریرہ باہر بیٹھ گئی تھی
"رؤندی اکھیاں نوں جئے تو سمجھ لیندا۔۔۔
سجن تو میرا بس میرا رہندا۔۔۔"
۔
بریرہ نے گرتے آنسوؤں کو صاف کرنے کے لیے جب ہاتھ اپنے منہ پر لگایا تو نگلی کے زخمی سے اسکی ایک سسکی نکلی تھی۔۔
ایک سما باندھ لیا تھا اسکے آنسوؤں نے۔۔۔وہ رو دی تھی ایک دم سے۔۔
۔
"دل نوں چیڑ گیا،،،ہائے دھوکہ تیرا۔۔۔
سینہ چیخے میرا۔۔۔اے ہی کہندا۔۔۔۔"
۔
"تم بھی بلاج ایک دن ایسے ہی بیٹھ کر رؤ گے۔۔۔جتنا مجبور مجھے کیا تم نے تمہیں بھی مجبور کری گی یہ دنیا۔۔۔تمہاری بےوفا۔۔۔
اتنی مجبور ہوگئی ہوں اتنا سب ہونے کے بعد بھی آج تمہاری دھڑکن بند ہونے کے ڈر سے میں وجود کانپ گیا ہے۔۔میری اگلی سانس کی ضمانت نہیں دے سکتی پر تمہاری سانسیں چلتی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔
بلاج میں آج۔۔۔"
وہ روتے ہوئے چپ ہوئی تھی۔۔۔ان آنسوؤں کے ساتھ خون بھی چہرے سے بہہ رہا تھا۔۔
وہ لڑکی کو دیکھ دیکھ کر گزر رہے تھے سب اس ہسپتال سے۔۔۔
"بلاج۔۔میں تمہیں۔۔آج بددعا دیتی ہوں۔۔۔اللہ تمہیں بھی قرار نہ دے۔۔تمہیں زندگی میں ہر وہ دکھ ملے جو مجھے ملا۔۔تمہیں ویسے ہی محبت میں دھوکہ ملے جیسے مجھے ملا
محبت میں بھی اور شادی جیسے پاکیزہ رشتے میں بھی۔۔۔
تمہیں میں بد دعا دیتی ہوں بلاج تم بھی خوش نہیں رہو گے۔۔تمہیں بھی درد ہوگا جب جب دل دھڑکے گا۔۔
جب جب سانس بھرا کرو گے۔۔۔درد ہوگا جیسے اب مجھے ہورہا ہے درد میرے سینے میں کبھی نہ ختم ہونے والا درد۔۔۔
میں تمہیں بددعا دیتی ہوں۔۔۔تمہیں بھی تمہاری محبت ایسے ہی لوٹے گی بلاج ایسے ہی تڑپ اٹھو گے۔۔۔"
اپنا چہرہ پھر سے صاف کیا تھا اس نے۔۔۔
کتنی مجبور ہوگئی تھی وہ۔۔اس نے زندگی میں پہلی بار کسی کو بد دعا دی تھی۔۔۔
وہ بددعا نہیں جیسے اسکے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی۔۔۔
۔
۔
لڑکھڑاتے ہوئے وہ وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔اسے لوگ رک رک کر دیکھ رہے تھے پاؤں پر کچھ چبھنے سے اسے محسوس ہوا تھا وہ ننگے پاؤں تھی۔۔۔
۔
"سجنا وے۔۔سجنا وے میں سیکھ گئیں آں پیراں ناں وسنا وے
سجنا وے،،،سجنا وے۔۔۔ہن آندا نئی کوئی سپنا وے۔۔۔۔"
۔
وہ چلتے چلتے کچھ گارڈز سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔
"ایم سوری۔۔۔بریرہ۔۔پشمینہ میڈم۔۔؟؟"
وہ گارڈ احترام میں پیچھے ہوگیا تھا جیسے ہی اس نے بریرہ کو پہچانا تھا۔۔
"بلاج حمدانی اندر ہے۔۔۔۔"
وہ یہ کہہ کر وہاں سے سیدھی روڈ پر چلنا شروع ہوگئی تھی
سیکیورٹی ہیڈ کافی دیر تک بریرہ کی جانب دیکھتا رہا تھا اور پھر باقی گارڈز کے ساتھ اندر چلا گیا تھا
۔
"موبائل مل سکتا ہے۔۔؟؟"
وہاں سے جاتی ہوئی ایک لڑکی سے انگلش میں پوچھا تھا بریرہ نے۔۔۔اور جیسے وقت دہرا رہا تھا خود کو۔۔۔بریرہ نے ڈینیل کو کال کی تھی۔۔ٹھیک اسی سٹاپ پر بینچ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی زمین پر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"بریرہ۔۔؟؟ قسم خدا کی بریرہ ایک بار پہلے اسی حالت میں اسی جگہ دیکھ چکا ہوں تمہیں۔۔مجھے کتنی راتیں سونے نہیں دیا تھا تمہاری اس حالت نے۔۔آج پھر وہ یاداشت تازہ کردی تم نے اور پہلے سے زیادہ بُری حالت۔۔آج تمہیں گھر نہیں ہسپتال لے کر جاؤں گا سیدھا۔۔۔"
"یا اللہ ۔۔۔بریرہ آنکھیں کھولو۔۔۔"
"بریرہ کے منہ پر مسکان آگئی تھی اپنے دونوں دوتوں کی باتیں سن کر۔۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی اسکا ساتھ نہیں چھوڑا کسی بھی حالت میں۔۔۔"
۔
"ہاہاہا گھر لے کر چلو ہسپتال ایک بےوفا ہے کافی ہے۔۔۔"
بریرہ نے آنکھیں بند کر کے دونوں بازو اٹھا کر دونوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔
ان لوگوں نے جیسے ہی بریرہ کو احتیاط کے ساتھ بیک سیٹ پر لٹایا تھا اور ڈینیل نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی بنا کسی سوال جواب کے ڈاکٹر کو فون کرکے گھر بلا لیا تھا اس نے۔۔
انکی گاڑی جیسے ہی اس روڈ سے فل سپیڈ سے گئی تھی اسی وقت پیچھے کھڑی گاڑی کی لائٹس آن ہوئی تھی اور انجن سٹارت ہوا تھا۔۔۔اور اس گاڑی نے بھی فالو کرنا رشروع کیا تھا ڈینیل کی گاڑی کو۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"کیا ہوا میرے پوتے کو بلاج۔۔۔بلاج،،،"
داد جی اپنے بیٹوں کے ساتھ تیز قدموں سے آئی سی یو کے سامنے آگئے تھے۔۔اس سے پہلے وہ اندر جانتے انکو نرس نے روک دیا تھا وہیں۔۔
"آپ پلیز یہیں رکیں اندر آپریشن چل رہا ہے۔۔۔"
"کیا۔۔؟ آپریشن کیوں کس چیز کا مجھے اندر جانے دو،،،"
زمرد صاحب کو پھر سے روکا گیا تھا پر اس بار ڈاکٹر خود آئے تھے۔۔۔
"آپ کو باہر ہی انتظار کرنا ہوگا۔۔انکے کندھے پر لگی گولی نکال دی ہے۔۔پر انکی حالت نازک ہے ابھی۔۔۔یہ تو اچھا ہوا انہیں وقت پر آپ لوگ ہسپتال لے آئے۔۔۔"
ڈاکٹر اپنا ماسک اتار کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
"کہاں تھا بلاج۔۔۔کون لایا اسے یہاں پر۔۔؟ کیا ہوا تھا میرے بچے کو۔۔۔"
رابیعہ بیگم سے رہا نہیں گیا تو انہیں نے روتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
۔
"میم ہم آپ کو بتا دیں گے آپ ابھی بیٹھ جائیں پلیز۔۔سر میں آپ دونوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔"
سیکیورٹی گارڈ نے زمرد صاحب اور داد جی کو مخاطب کیاتھا
"ابھی نہیں کچھ نہیں سننا ابھی میں نے۔۔۔
میرا ایک بیٹا گھر میں بےپٹیوں میں بندھا ہوا ہے۔۔۔میرا بھتیجا اسی ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں اپاہج پڑا ہوا ہے اور اب بلاج بھی۔۔۔
اب میں داد جی کے کہنے پر بھی چپ نہیں بیٹھوں گا۔۔۔جو بلاج کی حالت کے ذمہ دار ہے میں انہیں چھوڑوں گا۔۔۔"
"اپنے گریبان میں جھانک لیجئے زمرد صاحب مجرم مل جائیں گے گھر کی نوجوان نسل کا بیڑا غرق کردیا آپ مردوں نے۔۔"
رابیعہ بیگم انکے سامنے کھڑی تھی کسی زخمی شیرنی کی طرح بھیگا چہرہ سرخ آنکھیں لئیے۔۔۔
۔
"بہو۔۔۔"
"بولنے دیجئے بابا سائیں میری بیوی نہیں ہے یہ اس وقت یہ دو بیٹوں کی ماں ہے وہ بیٹے جو اس وقت زندگی اور موت کے درمیان ہے۔۔بولنے دیجئے"
انہوں نے رابیعہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بینچ پر بٹھا لیا تھا انہیں۔۔
"رابیعہ تمہارا غصہ جائز ہے پر اب اس خاندان کے مردوں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے"
"کیوں نہیں ہے۔۔؟؟ وقار کے پاس تو تھا واپسی کا راستہ زمرد۔۔۔تو آپ کے پاس کیوں نہیں۔۔؟"
"بھابھی۔۔۔"
پاس بیٹھی دیورانی نے جلدی سے رابیعہ بیگم کو چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔
صرف زمرد صاحب ہی نہیں داد جی کو بھی انکی آج اس طرح کہی گئی بات نے سکتے میں مبتلا کردیا تھا۔۔اور پاس کھڑے زمرد صاحب کے دو بھائی وہ تو ایک ہی جگہ کھڑے رہ گئے تھے یہ نام سن کر۔۔۔
وہ نام جو کوئی نہیں لیتا تھا ڈرتے تھے سب داد جی سے انکے غصے سے۔۔۔
۔
آج پہلی بار کسی کی اتنی ہمت ہوئی تھی یہ نام لینے کی۔۔۔
۔
آخر کیا تھا اس نام میں۔۔؟؟
کون تھا وقار نامی شخص۔۔۔؟؟
کیوں اس نام سے سب کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور محبت بھی۔۔۔
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment