یاریاں - قسط نمبر 1

ناول: یاریاں

رائٹر: سدرہ شیخ

قسط نمبر 1۔



"شئ از پریگننٹ۔۔۔۔"

"وٹ۔۔۔؟؟ کم اگین ریپیٹ کرو کیا کہا۔۔۔؟؟"

"امید سے ہے ہماری یہ کنواری سہیلی یہ بے غیرت بن بیاہی ماں بن گئی ہے"

بالوں سے پکڑ کر اس نے اپنی دوست کو ایک اور زور دار تمانچہ مارا تھا

"وٹ۔۔۔ کیا بکواس کررہی ہو۔۔ یہ کیا زبان یوز کررہی ہو عروشمہ خدا کا خوف کھاؤ "

ان دونوں دوستوں نے اسکے ہاتھوں سے عروشمہ کے بال چھڑانے کی کوشش کی تھی

"یہ ہوکیا رہا ہے۔۔۔ زاراتم اسے ڈاکٹر کے لیکر گئی تھی۔۔۔ کیا کہا ڈاکٹرنے۔۔؟؟"

زارا نے اپنا سر پکڑ لیا تھااس کمرے میں وہ دونوں لڑکیاں رو رہی تھی جو ابھی ابھی واپس ایک دوست کے گھر اکٹھی ہوئیں تھیں

"یہ۔۔۔ بے غیرت۔۔۔"

"کیا بازاری زبان استعمال کررہی ہو تم اسکے ساتھ۔۔؟؟ شرم کرو۔۔۔"

"شرم کروں۔۔؟؟ اس گھٹیا لڑکی نے بازاری حرکت کی تمہیں نظر نہیں آرہا یا پھر تم امیر زادی ہو اس لیے تمہیں فرق نہیں پر رہا سوہا جی آپ تو اس معاملے سے دور رہیں۔۔۔

آپ امیر لوگوں کی سوسائٹی میں یہ عام ہوتا ہوگا کالج کی لڑکی کا پریگننٹ ہونا پر۔۔۔"

سوہا نے جس قدر زور سے تھپڑ مارا تھا عروشمہ کو وہ پیچھے جاکر گری تھی

"یو بچ۔۔۔ تمہیں تو میں۔۔۔"

باقی تین دوستوں نے ان دونوں کو پیچھے کیا تھا۔۔ اپنی لڑائی میں وہ اس لڑکی کو دیکھ نہیں رہے تھے جو بیڈ کے ایک کونے پر سمٹ کر بیٹھ گئی تھی بکھرے بال عروشمہ کی مار سے اسکا منہ سوجھ گیا تھا پوری طرح سے

"عروشمہ۔۔۔ سوہا پلیز۔۔۔"

"چھوڑو مجھے۔۔۔ بچ بولا اسکی اوقات کیا ہے بدتمیز لڑکی۔۔۔ گالی نکال رہی ہے سب کو۔۔۔

زارا کیا ہوا ہے بتاؤ کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔"

سوہا نے زارا کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جو اور پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔

سوہا نے باقی دو دوستوں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ آج کا دن تو ان کے لیے جشن کا دن تھا وہ کالج سے اچھے نمبروں میں پاس ہوئی تھیں۔۔۔ سب کی سب اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں انہوں نے اپنی محنت سے ٹاپ ٹین سٹوڈنٹس میں اپنا نام لکھوا لیا تھا۔۔۔

آج سوہا کے گھر سیلیبریٹ کررہے تھے انتظار میں تھے زارا اور عروشمہ کے۔۔۔

"تمہیں سمجھ نہیں آرہی۔۔۔؟؟ یہ بدبخت پریگننٹ ہے۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ یہ میرا بیگ۔۔۔ یہ کتابوں کے درمیان میں میں نے اسکی رپورٹس چھپائی ہوئیں ہیں۔۔۔

شرم نہ آئی تجھے۔۔۔ بےشرم بےغیرت لڑکی۔۔۔"

اپنے بیگ کی ہر چیز کو اس کمرے میں اچھال دیا تھا عروشمہ نے ایک بار پھر زارا کو مارنے کے لیے اسکی طرف بھاگی تھی وہ۔۔۔۔ اس کا خود کا چہرہ بھر گیا تھا۔۔۔

پن ڈراپ سائلنس ہوگیا تھا۔۔ سوہا نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے وہ رپورٹ اٹھائی تھی اور بیڈ پر گر پڑی تھی وہ۔۔۔

"اب کیوں شاکڈ ہوگئی ہو سوہا۔۔۔؟ سانپ سونگھ گیا ہے تمہیں۔۔۔ بتاؤ اب مجھے۔۔۔

اس گھٹیا لڑکی نے اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی برباد کردیا۔۔۔۔ "

۔

زارا کی بھی وہی حالت تھی جو سوہا کی تھی 

"یہ کیا کردیا تم نے عروشمہ ۔۔۔"

"مجھ۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔"

"غلطی۔۔۔؟؟ گناہ کیا ہے تو نے۔۔۔ تجھے اپنے بوڑھے باپ کی ڈارھی کا خیال نہیں آیا۔۔۔؟؟

تجھے اپنے ماں کا خیال نہیں آیا۔۔۔؟ تجھے میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔"

عروش نے اسے اور دو لگائی تھیں۔۔۔۔

"زارا۔۔۔ بس۔۔۔ بس کرجاؤ۔۔۔۔ بس اسکی حالت دیکھو۔۔۔"

"چھوڑ دو مجھے۔۔۔ تم لوگ سمجھ نہیں رہے ہو۔۔۔ یہ اکیلی برباد نہیں ہوئی ہم سب ہوگئے ہیں۔۔۔

یہ ہمارے گروپ میں تھی۔۔۔۔ سب کو پتہ چلے گا ہمارے گھروں میں پتہ چلے گا۔۔۔ اسکو نہیں کوئی کچھ کہے گا۔۔۔ اسکے جیسی تو خودکشیاں کرکے مرجاتیں ہیں۔۔۔ پیچھے ہم جیسے لوگوں کو چھوڑ جاتیں ہیں معاشرے کے ظلم برداشت کرنے کے لیے۔۔۔۔"

زارا کو واپس ان دونوں نے وہیں بٹھا دیا تھا۔۔۔

اب خاموشی تھی اور تینوں کی نظریں سوہا پر تھیں۔۔۔

"سوہا۔۔۔ تم ہم سب میں کول مائنڈ ہو انٹیلیجنٹ ہو سینئر ہو۔۔۔ تم بتاؤ اب۔۔"

"تم اس سے کیا پوچھ رہی ہو مجھ سے پوچھا عندلیب۔۔۔ جب ڈاکٹر نے اسکی رپورٹ دی۔۔۔

وہ ہم دونوں کو اوپر سے نیچے تک دیکھ رہی تھی۔۔ اور وہ جس حقارت اور زہر کی نظروں سے ہمیں دیکھ رہی تھی میں خود کو انکے سامنے برہنہ محسوس کررہی تھی بےپردہ۔۔۔ لیڈی ڈاکٹر نے پوچھا کیا ایج ہے تمہاری۔۔۔

اس وقت میں نے کہا یہ میریڈ ہے ۔۔۔ وہ کہتی اتنی چھوٹی ایج میں شادی اور بچہ۔۔۔۔

میں نے انہیں بتایا یہ یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہے۔۔۔۔ میرا دل کررہا تھا وہ زمین کھلے مجھے اپنے اندر سما لے۔۔۔۔ اتنی شرمندگی۔۔۔ گھن آرہی مجھے اس کے وجود سے یہ بےحیا لڑکی۔۔۔"

"زارا سنبھالو خود کو۔۔۔۔پلیز۔۔۔سوہا تم نے ایک بار بھی کچھ نہیں کہا۔۔۔"

سوہا نے رپورٹ پکڑے پیچھے روتی ہوئی بلکتی ہوئی زخمی دوست کو دیکھا اور گہرا سانس بھر کر مخاطب ہوئی تھی اس سے۔۔۔

"سوہا۔۔۔ کیا سوچ رہی ہو۔۔۔"

"میں سوچ رہی ہوں۔۔۔جس لڑکی نے ایک چھوٹے سے لال بیگ کو ایک چھپکی کو ایک کیڑے کو دیکھ کر ہمیشہ چیخ ماری۔۔۔ ڈر جاتی تھی جو۔۔۔

میں تنہائی میں ڈری نہیں کسی غیر محرم سے ملتے ہوئے۔۔۔؟؟ شادی کے بعد بھی لڑکیوں میں ہمت نہیں ہوتی کہ اپنے شوہر کے ساتھ انٹیمیسی کو اوپنلی قائم کرسکیں۔۔۔

اور یہ کسی غیر محرم کے ساتھ سب حدود پار کرگئی۔۔۔۔؟؟

عروشمہ یو نووٹ۔۔۔؟؟؟ ہم دوستوں نے یونیورسٹی لائف کے لیے کتنی سٹرگل کی تھی 

ہم دوستوں میں سے کسی ایک لڑکی کا یہ شرمناک گناہ تمہیں ہی نہیں ہم سب کو اس کٹہرے میں لے گیا ہے جو پنچائیت اب دنیا لگائے گی لوگ لگائیں گے۔۔۔ ہمارے خاندان والے لگائیں گے۔۔۔۔

۔

"We Are Doomed....."

۔

اتنی خاموشی میں سوہا کی آواز اس کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔ 

۔

اس کمرے میں کھنکتی سوہا کی آواز نے عروشمہ کو ایک الگ دنیا میں پہنچا دیا تھا۔۔

 وہ دنیا جہاں وہ ایک بہن تھی بھائی کی عزت کا سوچ کر قدم اٹھانے والی بہن

ایک بیٹی۔۔۔ باپ کی داڑھی کی لاج نے اسے قائل کردیا تھا حجاب کرنے پر۔۔۔

عروشمہ ہاشم۔۔۔ نعیم ہاشم کی 5 بیٹیوں میں سے دوسرے نمبر والی بیٹی۔۔۔

گھر کی چہکتی ہوئی چڑیا۔۔۔

عروشمہ سوچوں کے سمندر میں بہہ گئی تھی جن کی لہریں اسے بہاتے ہوئے ماضی میں لے گئی تھیں جہاں وہ تھی ایک معصوم کلی

عروشمہ ہاشم۔۔۔۔ ایک نام جو خاندان میں پہلی لڑکی تھی جس نے ٹاپ 3 میں نام بنا لیا تھا اپنے کالج میں۔۔۔

عروشمہ ہاشم جس نے سکالرشپ حاصل کرلی تھی اور اب شہر کی مہنگی اور ٹاپ یونیورسٹی میں میرٹ لسٹ میں جگہ بنا لی تھی

عروشمہ ہاشم۔۔۔ اپنی ابو کی پری

اپنے بھائی حماد کی آنکھوں کا تارا

اپنی امی کی لاڈلی۔۔۔

عروشمہ ہاشم ۔۔۔۔

۔

"ابو کبھی کبھی لگتا ہے میں آپ کا اکلوتا بیٹا نہیں ہوں یہ لڑکیاں ہیں۔۔ توبہ ہے اتنا پیار کرتے ہیں آپ۔۔۔"

ہاشم صاحب نے اپنی بچیوں کے ہنستے ہوئے چہرے دیکھے تھے پھر اپنے بڑے بیٹے حماد کو دیکھا تھا

"میں اپنی بچیوں کو تمہارے سامنے اس لیے بھی لاڈ پیار کرتا ہوں کہ تمہیں پتہ رہے یہ میری ذمہ داریاں نہیں ہیں۔۔۔ میری زندگیاں ہیں۔۔ اور کل کو میرے جانے کے بعد حماد تم نے بہنوں کا بڑا بھائی نہیں باپ بننا ہے۔۔۔"

"ابو۔۔"

"ابو جی۔۔۔"

وہ بیٹیاں اداس ہوگئی تھی اس سوچ پر اور چھاؤں کی طرح باپ کی طرف لپکی تھی۔۔پر ان میں وہ ایک بیٹی وہیں بیٹھے رونے لگی تھی

"عروشمہ میری بچی۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔"

"امی ابو سے کہیں ایسی باتیں مت کیا کریں۔۔ ہم ان کے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔

ابھی تو ہماری زندگی میں خوشیاں آئی ہیں امی۔۔۔ ابھی تو ہم نے جینا سیکھا ہے۔۔پلیز۔۔۔"

وہ زاروقطار رونا شروع ہوگئی تھی سب ہی آبدیدہ ہوگئے تھے۔۔

اتنی خوشیاں ایک ساتھ ان کے گھر آئی تھیں اور گھر کی چھت چھن جانے سے انکی روح کانپ گئی تھی

ہاشم صاحب میں جان تھی اس گھر کے ہر فرد کی۔۔۔

"پر عروشمہ جو باپ کی اس بات پر اتنی آبدیدہ ہوئی تھی اسے کیا پتہ تھا وہی وجہ بنے گی اس گھر کی چھت گر جانے کی۔۔۔وہ جو آج اتنی رو رہی تھی۔۔۔کل کو وہی خون کے آنسو رُولا دے گی ان سب کو۔۔۔

اپنے ایک کردہ گناہ کی وجہ سے۔۔۔۔"

۔

۔

"سوہا میڈم۔۔۔ بڑے صاحب نے بُلایا ہے آپ کو۔۔"

ملازمہ دروازے پر کھڑی تھیں اور سوہا نے اس فائل کو ایک دم سے چھپا لیا تھا۔۔۔

ملازمہ حیران ہوئی تھی سوہا کے ماتھے پر آتے پیسے کو دیکھ کر۔۔ اس لڑکی کو ہمیشہ غصہ کرتے رؤب ڈالتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔۔۔

جس مالک کی بیٹی کے چہرے پر کبھی زرا سی نرمی نہیں دیکھی تھی آج گھر کی ملازمہ اس چہرے پر ڈر وحشت دیکھ رہی تھی

"ڈیڈ سے کہو میں کچھ دیر تک آتی ہوں۔۔"

"بی بی جی آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟"

سوہا نے ایک نظر ڈالی تھی اور وہ ملازمہ بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔

"سوہا۔۔۔"

"کیا کروں۔۔؟؟ کیا کہوں۔۔؟؟ یہ گناہ ہے جس کی معافی نہیں۔۔۔ اسکی معافی نہیں

عروشمہ کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔؟؟ تم تو ایسی نہیں تھی کسی نے زبردستی کی۔۔؟

کچھ غلط ہوا تمہارے ساتھ۔۔؟؟ ہمیں بتاؤ مجھے بتاؤ چوبیس گھنٹے سے پہلے اسے سزا دلواؤں گی بتاؤ۔۔۔"

سوہا کے سوالات پر سب دوستوں کے دل میں ایک امید جاگی تھی کہ شاید کچھ اور کہانی ہو

پر عروشمہ نے تو سب کچھ ختم کردیا تھا جیسے

نہ میں سر ہلا کر۔۔۔

"کچھ۔۔کچھ نہیں ہوا تھا۔۔میں بہک گئی تھی باپ کی عزت بھائی کی عزت میں تو پورے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی۔۔

میں۔۔ میں سمجھی تھی وہ مجھ سے پیار کرتا ہے ہم شادی کریں گے۔۔ اور مجھے لگا تھا پیار کی منزل یہ ہے۔۔۔

یہ جس میں دھنستی چلی گئی میں۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا میں جس شخص کو اپنا سب سمجھ کر گئی تھی وہ۔۔۔

وہ مجھے دھوکا دے گا۔۔۔ وہ جوس کا گلاس۔۔۔جسے پینے کے بعد مجھے ہوش نہیں رہا تھا۔۔

اور جب ہوش آیا تو خود کو ۔۔۔"

وہ گھٹنوں پر سر چھپائے رونا شروع ہوگئی تھی

"نام بتاؤ اسے میں جان سے مار دوں گی۔۔۔ اسے پولیس کے حوالے کریں گے ہم عروشمہ ۔۔۔"

"عندلیب۔۔۔ یہ چوچی کاکی تھی۔۔؟؟ روٹی کو چوچی کہتی ہے اتنی معصوم ہے۔۔۔؟؟

اس نے موقع دیا اس خبیث کو۔۔۔ کسی غیر محرم کے ساتھ یہ گئی وہ بھیڑیے جو باہر کی دنیا میں چھپے بیٹھے ہیں وہ گھروں تک نہیں آتے ان کے جیسی بدذات لڑکیاں خود انکا کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں۔۔۔

یہ برباد کرگئی ہے سب کچھ سوہا۔۔۔ اس نے ہمارے مستبل کو اپنی حوس کی آگ میں ایندھن بنا کر جلا ڈالا۔۔۔"

۔

سب سے زیادہ ان دوستوں میں زارا کررہی تھی۔۔ وہ پاگل ہورہی تھی عروشمہ کو پھر سے تھپڑ مارنے کے لیے۔۔

"زارا تم کیسی دوست ہو۔۔؟ عروشمہ کو ہماری ضرورت ہے۔۔ تم اسے مجبور کررہی ہو کہ وہ کوئی غلط کام کر بیٹھے۔۔۔ تم چپ کیوں نہیں رہ سکتی"

"کیوں چپ رہوں میں۔۔؟ میرے اندر ایک طوفان شور مچا رہا ہے۔۔۔ میرے ہاتھ دیکھو کانپ رہے ہیں میری زبان بولتے ہوئے لرز رہی ہے

عنایا۔۔۔ یہ سچ جب سب کے سامنے آئے گا میرے گھر والے میری تعلیم چھڑوا دیں گے

میرا کزن جس کے ساتھ میری شادی کرنی ہے میرے گھر والوں نے وہ نکاح سے پہلے مجھ سے میری پاکدامنی کی قسم لے گا۔۔۔

میرے ابو۔۔۔ وہ جب جب مجھے دیکھیں گے وہ سوچیں گہ کہیں میں نے بھی تو پڑھائی کے بہانے انہیں دھوکا نہیں دیا۔۔ اگر دیا تو کب کب اور کتنی بار۔۔۔

میں شور مچانا چاہتی ہوں کیونکہ کچھ گھنٹوں میں کچھ دنوں میں ہم سب کی زندگی برباد ہوجانی ہے۔۔۔میری بات لکھ لو۔۔

یہ اکیلی برباد نہیں ہوئی۔۔۔

تم جیسی لڑکیاں ۔۔۔ عروشمہ ہاشمی۔۔۔ تجھے اللہ پوچھے تو نے اس گناہ کو کرتے ہوئے ایک بار نہیں سوچا۔۔"

۔

وہ روتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھی گئی تھی اپنے بیگ میں اپنی بکس رکھتے ہوئے اس نے حسرت بھری نظروں سے انہیں دیکھا تھا اور کندھے میں بیگ لٹائے بڑی سی چادر اوڑھے وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی جب سوہا نے اسے پیچھے سے آواز دی تھی

"ڈرائیور ڈراپ کردے گا میں کہتی ہوں۔۔"

"نو تھنکس۔۔۔ نہیں چاہیے تمہارا احسان سوہا میڈم۔۔ اس بے غیرت کو یہ آفر دو

آنے والے دنوں میں شاید تمہارے پیسے سے اسکی کوئی مدد ہوسکے۔۔ میرے ھال پر چھوڑ دو مجھے۔۔۔"

"زارا۔۔۔"

پر زارا وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔ ان سب کو ایک گہری سوچ میں چھوڑ کر

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

"حماد نہیں میرے بچے نہیں۔۔۔ چھوڑ دو اسے"

"چھوڑ دوں امی۔۔؟ اس بدذات نے کیا کردیا۔۔آپ کو اندازہ ہے۔۔۔ اس نے ہمیں جیتے جی مار دیا۔۔۔"

"ایم سو۔۔سوری بھائی۔۔میں۔۔"

"تمہیں بھی مارت دوں گا اور خود کو بھی ختم کرلوں گا۔۔ تم نے یہ صلہ دیا ہمارے یقین کا ابو۔۔"

ہاشم صاحب اسی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئے تھے اور باقی بہنیں ترلے کررہی تھیں واسطے ڈال رہی تھی بھائی کے آگے عروشمہ کی زندگی کے

"امی میرے پاؤں چھوڑ دیں۔۔۔"

"نہیں حماد نہیں۔۔۔خدا کے لیے نہیں آواز نیچی کرلو۔۔ میری بیٹیوں کی بدنامی ہوجائے گی اگر اوپر کسی رشتے دار نے تمہاری باتیں سن لی۔۔۔

مجھے آج اسکے مرجانے پر افسوس نہیں ہوگا پر تم میرے بچے جیل چلے جاؤ گے۔۔

سارے محلے سارے خاندان کو پتہ چل جائے گا۔۔۔ اور ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا خود کشیوں کا۔۔ 

تمہارے ابو کی طرف دیکھو۔۔۔ حماد ہم دونوں میاں بیوی نے خود کو مار کر تم بچوں کو پالا پوسہ۔۔۔ رحم کرو ہم پر۔۔۔"

ماں نے روتے ہوئے چادر بیٹے کے قدموں پر رکھ دی تھی اور خود پر گر گئیں تھیں وہاں۔۔

عروشمہ کے اس گناہ کی خبر انہیں آج ملی تھی۔۔۔

وہ لڑکی جس پر محبتوں کا بھوت سوار تھا

جو عشق میں عزتیں نچھاوڑ کربیٹھی تھی وہ ایک طرف رو رہی تھی ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔ ماں کے تھپروں کے بعد اس میں ہمت نہیں تھی کسی سے نظریں ملانے کی

حماد پیچھے ہوگیا تھا کچھ قدم اور اپنے والد کے ساتھ بیٹھ گیا تھا

گھر کے دروازے بند تھے

وہ لوگ جوائنٹ فیملی میں فرسٹ فلور پر رہتے تھے۔۔ آج خوش قسمتی تھی جو ہاشم صاحب کے دونوں بھائی ایک فنکشن پر گئے ہوئے تھے

جانا تو انہوں نے بھی تھا سب تیار ہی تھے جانے کو جب عروشمہ کی خراب طبیعت کی وجہ سامنے آئی۔۔

"ابو۔۔۔ آپ کہتے تھے بیٹیوں سے نہیں انکے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے

پر ابو میں کہتا ہوں نہ بیٹیوں سے ڈر لگتا ہے نہ انکے نصیبوں سے۔۔۔

ہمیں ایسی بیٹیوں سے ڈرنا چاہیے جو ماں باپ کی عزت رؤند جاتی ہیں۔۔۔

اب آپ کہتے تھے میں باپ بن کر انکا سائبان رہوں ہمیشہ۔۔۔

آج کے بعد مجھے نہیں لگتا میں ان سب کا بڑا بھائی بھی بنا رہوں گا۔۔۔

میری ایک بہن نے جو کالک مل دی ہے میرے دل پر ابو میں کبھی اپنی بہنوں پر یقین نہیں کر پاؤں گا۔۔۔

اور اگر کل کو بیٹی ہوگئی تو ابو میں اس پر بھی یقین نہیں کر سکوں گا۔۔۔"

حماد وہاں سے چلا گیا تھا اس گھر کے مردوں کو آج روتے ہوئے دیکھ رہی تھیں سب عورتیں گھر کی۔۔۔

ہاشم صاحب جو بس اپنے ہاتھوں کو دیکھی جارہے تھے حسرت بھری نگاہوں سے۔۔۔

"عروشمہ کمرے میں چلو۔۔۔"

"آپی۔۔ایم سوری۔۔۔میں نے گناہ کردیا ۔۔۔ پر میں مرنا نہیں چاہتی مجھے خود کشی نہیں کرنی۔۔۔ مجھے آپ سب کے ساتھ جینا ہے ساری زندگی گزارنی ہے۔۔پلیز مجھے بچا لیں مجھے ابھی مرنا نہیں ہے۔۔بھائی سے کہیں مجھے اور ماریں سزا دیں۔۔میرا منہ توڑ دیں۔۔ پر مجھ سے بات کریں ابو۔۔۔"

وہ پاگلوں کی طرح باتیں کررہی تھی ہاتھ آگے بڑھا رہی تھی پر کوئی ہاتھ نہیں تھام رہا تھا

وہ نادان ابھی بھی یہ سمجھ رہی تھی کہ اسے کوئی تھام لے گا دلاسہ دے گا۔۔۔

پر اسے پتہ نہیں تھا اپنے دھوکے سے وہ سب کی محبت اسکے لیے ختم کرچکی تھی اسی لمحہ۔۔۔

اسے ایک بات سمجھ آگئی تھی اس نے جو کچھ بھی کیا جو کچھ بھی اس سے ہوا وہ نادانی نہیں تھی۔۔۔ کسی نامحرم کے ساتھ تعلقات قائم کرنا کوئی نادانی نہیں ہوتی۔۔۔

اسے پتہ تھا باپ جب صبح صبح اسے بائیک پر کالج چھوڑنے جاتا تھا تو کہتا تھا

میری بچیاں میرا غرور ہیں۔۔۔میرا عروج ہیں۔۔۔

باپ کہتا تھا میری خواہش تھی میری بچیاں شہر کے بڑے کالج میں تعلیم حاصل کریں۔۔

پر باپ یہ بتانا بھول گیا تھا کہ میری عزت کا بھی خیال رکھنا۔۔۔ میری داڑھی کا خیال رکھنا جب بغاوت کا جذبہ حاوی ہوجائے تو میرے یقین کو ڈھال بنا لینا پر عزت کو داؤ پر مت لگانا۔۔۔

باپ نے یہ اہم باتیں تو بتائی نہیں۔۔۔ کیونکہ ماں باپ کبھی جوان اولاد کو یہ باتیں ہر قدم پر بتاتے نہیں ہیں۔۔۔ انکا یقین انہیں اجازت ہی نہیں دیتا۔۔۔

۔

پر کچھ اولادیں بھول جاتیں ہیں۔۔۔ دنیاوی لذت میں۔۔ تو کبھی جوش میں جوانی میں۔۔

یہ وہ گناہ ہوتے ہیں جنکی معافی نہ دنیا میں ہوتی ہے نہ آخرت میں۔۔۔۔

۔

"مجھے میرے ماں باپ معاف نہیں کررہے تو میرا رب ۔۔۔"

اور وہ پھر سے سسکیاں لیتے ہوئے رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔

۔

۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Comments