#حویلی_کی_بیٹی 💕
#از_قلم_وردہ_زوہیب 🖋
#ایپیسوڈ_4
حریم کو اب وہاں بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہو چکے تھے۔اُس کا ہاتھ ابھی تک شاہ میر کے ہاتھوں تلے تھا۔ اب وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی بیٹھی تھک چکی تھی، نیند سے آنکھیں الگ بوجھل تھی۔ سارے دن کی تھکاوٹ، اتنا کام اُس کی سات پشتوں میں کیسی نے نہیں کیا ہوگا جیتنا آج ایک دن میں اُس نے کیا تھا۔
تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کا شدید غلبہ تھا۔
اور اُسے پتہ ہی نہیں چلا نیند اُس پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنا سر بیڈ کے کونے سے لگائے سوگئی۔
تھوڑی دیر بعد شاہ میر کروٹ لینے کے لیے جاگا تو اُسے کچھ محسوس ہوا۔ پہلے تو وہ سمجھ نہیں آیا کے کیا ہے پھر اس نے سامنے سوئی ہوئی حریم کو دیکھا تو چونک گیا۔
وہ ٹارچ جو حریم نے رکھی تھی اس کی روشنی سے شاہ میر اُسے آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ اُس کی حیرت کی انتہا نہیں تھی اس وقت۔
اُس نے دیکھا لمبی گھنی مڑی ہوئی پلکیں، وہ کھو سا گیا۔ پھر اگلے ہی پل ہوش میں آیا اور اُسے جھنجوڑ کر جگایا۔
" تم یہاں کیا کر رہی ہو میرے کمرے میں؟" وہ دھاڑا تو حریم ہڑبڑا کر اٹھ گئی۔ ذرا سی آنکھ لگ گئی تھی اُس کی بس۔
وہ ایک دم کھڑی ہوئی تو شاہ میر کا موبائل اُس کے ہاتھ سے گر گیا۔
شاہ میر اپنا موبائل اُس کے ہاتھ میں دیکھ کر حیران ہوا۔ وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
" چوری کرنے آئی ہو تم میرے کمرے میں؟" شاہ میر بھی کھڑا ہوگیا۔
حریم کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔
" بتاؤ میرا موبائل چرانے آئی تھیں؟ " شاہ میر نے غصے سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
"۔ میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر اور تمہاری ہر چیز پر۔" حریم کو غصّہ آگیا۔
" تم مجھے جان سے مارنے آئی تھیں؟ ہیں نہ؟ اسی مقصد کے لیے شاہ نواز نے تمہیں ونی میں دے کر میرے پاس بھیجا ہے نہ؟ تاکہ مجھے مار کر تم ہرا باپ اپنے بیٹے کو اور تمہیں آزاد کروا سکے؟ "
شاہ میر نے اس کے شانے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا تو حریم نے ایک دم سے اُس کے ہاتھ جھٹک لیے۔
" تمہاری طرح تمہاری سوچ بھی گری ہوئی ہے۔" حریم نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
" میری سوچ گری ہوئی ہے؟ میری سوچ؟ قاتل تمہارا خاندان ہے۔اور تم کہہ رہی ہوں کہ میری سوچ گری ہوئی ہے؟" شاہ میر کو غصہ آگیا۔
" جو بھی ہے میرے بھائی میں ایک مرد کو مار کر مردانگی دکھائی ہے۔ تمہاری طرح کسی عورت کو سزا نہیں دی۔ بھری پنچایت ہے تم نے مجھے مانگا۔ اس کی جگہ اگر تم میرے بھائی کو قتل کر دے تو شاید میری نظروں میں اتنا نہ کردے جتنا میری بولی لگانے پر گرے ہو۔تب میں سوچتی کے ہاں ٹھیک ہے اس شخص نے اپنے بھائی کے خون کے بدلے میرے بھائی کا خون کرکے صرف حساب برابر کیا ہے۔ جب ادا سائیں تمہارے ہاتھ نہیں لگے تو تم نے مجھے مانگ لیا۔تاکہ ایک بے قصور اور مظلوم سے بدلہ لے سکو۔ "
حریم بھی حریم تھی۔
ایک سردار کی بیٹی۔۔۔ نازوں سے پلی ہوئی۔۔۔ ایک ڈاکٹر ۔۔۔ ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی۔۔۔ کیسی چپ رہ سکتی تھیں اتنی جہالت دیکھ کر۔
حریم کی بات سن کر شاہ میر کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آگئی۔
" پھر تمہیں سب سے زیادہ نفرت اپنے باپ اور بھائی سے ہونی چاہیے۔تمہاری نظروں میں گرنے کے حقدار مجھ سے پہلے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمہیں ونی میں دے دیا۔میں تو غیر تھا میں نے تمہاری بولی لگائی۔وہ تو تمہارے اپنے تھے۔ تمہارے باپ نے اپنا بیٹا بچانے کے لیے تمہیں قربان کیا ہے۔"
آخری جملہ بہت جتانے والے انداز میں شاہ میر نے کہا۔
حریم ایک پل کو لاجواب ہو گئی۔
" اگر کوئی مجھ سے میری بہن مانگتا۔قسم خدا کی اپنی گردن کٹا دیتا۔۔ اپنے بات کو پیش کرتا۔۔۔ اپنے بھائی کو قربان کرتا۔۔۔ اپنے چچا کا بیٹا آگے کر دیتا۔۔۔ لیکن اپنی بہن نہ دیتا۔۔۔ تف ہے تمہارے گھر کے مردوں پر جنہوں نے اپنی بیٹی دے دی۔۔۔ میں نے یہاں لا کر کونسا تمہیں ہاتھ لگایا ہے؟ جو تمہاری عورت ہونے کا مجھے کوئی فائدہ ہو۔ میں نے تو پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ تمہاری شکل مجھے نظر نہیں آنے چاہیے۔ بے غیرت میں نہیں ہوں بی بی ۔۔۔ بے غیرت ہوتا تو اب تک اس جائز رشتے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمہارے ساتھ زبردستی کر چکا ہوتا۔۔۔ بے غیرتوں تمہارے گھر کے مرد ہیں۔۔۔ جنہوں نے تمہیں مجھے پیش کیا۔"
شاہ میر نے اپنی شہادت کی انگلی اس کی طرف پوک کرتے ہوئے کہا۔
حریم میں کچھ بولنے کے لئے لب کھولے مگر سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے۔
" اسی طرح بتاؤ کہ میرے کمرے میں تم کیوں آئی تھیں؟ اور میرے موبائل کے ساتھ کیا کرنا چاہ رہی تھی؟ ورنہ وہ تھپڑ تمہیں یاد ہوگا۔"
شاہ میر نے کہا۔
" میں تمہارے آگے جوابدہ نہیں ہوں۔" حریم نے فورا کہا۔
" تو کہ ناواقفِ آداب غلامی ہے ابھی۔۔۔" شاہ میر نے افسوس سے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
" کیا مطلب ہے اس بات کا؟" حریم نے پوچھا۔
" مطلب یہ کہ بھول جاؤ کہ تم سردار کی بیٹی تھی۔ بس یہ یاد رکھو کہ تم یہاں غلامی میں آئی ہو۔اور آداب غلامی سیکھ لو۔ نظری اور سر جھکا کر میرے سامنے بات کرو۔ گردن اکڑ کر بات کرنے والی اوقات اب تمہاری نہیں رہی ہے۔ سردار کی بیٹی نہیں ہو اب تم"
شاہ میر نے کہا۔
" سردار کی بیٹی نہیں ہوں مگر سردار کی بیوی تو ہوں نا..." حریم نے جتانے والے انداز میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
" ونی میں آئی ہوئی ایک لڑکی۔" شاہ میر نے جواب دیا۔
" سردار شاہ میر سلطان کے نکاح میں آئی ہوئی اس کی شرعی بیوی ہوں میں۔۔۔ اور سردار شاہ میر چاہے جتنا اس حقیقت کو دنیا کے سامنے جھٹلا لے مگر اللہ کے سامنے نہیں جھٹلا سکتا۔ اگر غلام بنا کر رکھنا ہے تو مجھے طلاق دو۔ پھر غلام بناؤ۔ پھر بیوی نہیں باندی بولو۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ "
حریم نے کہا۔
اس لڑکی نے شاہ میر کو حیران کر دیا تھا۔ شاہ میر کے ذہن میں یہی تصور تھا کہ ایک ڈری سہمی لڑکی ہوگی۔جو اس کے دھاڑنے پر خوفزدہ ہوکر ایک کونے میں بیٹھ جائے گی۔ مگر یہ سوچ تھی اس کی۔ آگے بھی سردار کی بیٹی تھی۔۔۔ سرداری شاید اس کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑ رہی تھی۔اس لیے سارا دن غلاموں کی طرح کام کرنے کے باوجود بھی وہ شاہ میر کے سامنے اکڑ کھڑی تھی۔
" تمہیں بالکل ڈر نہیں لگ رہا مجھ سے؟"
شاہ میر نے پوچھا۔
" ضرور لگتا ۔۔۔ اگر تم مجھے تھپڑ مارنے کے بعد اپنا ہاتھ زخمی نہ کر لیتے تو۔۔۔ تو ڈر لگتا کہ تم مار مار کر میری جان ہی لے لو گے۔ مگر جو انسان ایک لڑکی کو تھپڑ مارنے کے بعد اپنا ہاتھ زخمی کر لیتا ہے۔۔۔ یقینا دوسرا تھپڑ مارنے کی ہمت اس میں نہیں ہے۔ "
حریم نے پورے یقین سے کہا۔ اور اگلے ہی پل اس کا یقین ٹوٹ گیا۔ جب شاہ میر کا ہاتھ اٹھا اور اور اس کے گال پر ثبت ہو گیا۔
حریم بے یقینی سے اپنا گال چھو کر دیکھ رہی تھی۔
" پہلی بار تم ہی تھپڑ مار کر مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے غلط کیا۔۔۔ اور آج مجھے لگ رہا ہے کہ اس کی تمہیں شدید ضرورت ہے۔ میں یہاں تمہیں پھولوں کی سیج پر بٹھانے کے لیے نہیں لایا ہوں۔ میں ہن صرف تمہیں ظفر تک رسائی حاصل کرنے کے لئے لایا ہوں۔ "
شاہ میر نے کہا۔
اسی پٹی شدہ ہاتھ سے اس نے حریم کو تھپڑ مارا تھا۔
" میرا جوان بھائی کا قتل ہوا ہے بی بی ۔۔۔ میں وہ نرم دل شاہ میر نہیں رہا جو جانوروں کے ساتھ بھی نرمی کرتا تھا۔۔۔ میں اب پتھر ہو گیا ہوں۔ آو دیکھو اسے۔"
شاہ میر حریم کا بازو پکڑ کر تے ہوئے اسے گھسیٹ کر دیوار کے سامنے لے آیا۔ جہاں پر شاہ میر اور جنید کی اکٹھی تصویر لگی ہوئی تھی۔ وہ دونوں اس تصویر میں مسکرا رہے تھے زندگی سے بھرپور۔ بہت بڑے اور خوبصورت فریم میں فریم کی ہوئی وہ تصویر اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ شاہ میر کو اپنے بھائی سے کس قدر محبت تھی۔
" دیکھو اسے۔۔۔ کیا قصور تھا اس کا؟ صرف اتنا کہ اس نے اس لڑکی سے محبت کی جس سے تمہارا بھائی محبت کرتا تھا؟ میری معصوم سے بھائی کو اس کی محبت کی سزا دی ہے تمہاری ظالم بھائی نے۔ صرف اس لیے کہ اس لڑکی نے میرے بھائی کی محبت قبول کر لی تھی۔۔۔ اور حسد میں آکر تمہارے بھائی نے میرے بھائی کو مار دیا۔ اور تم سوچ رہی ہوں کہ میں تمہارے ساتھ نرمی کروں گا؟ نہیں بی بی نہیں۔۔۔ سوچنا بھی مت کے شاہ میر سلطان تمہارے ساتھ نرمی کرے گا۔ "
شاہ میر نے غصے سے کہا کہ وہ ابھی تک اس کے بازو پر اپنا پنجا جکڑے ہوئے تھا۔
" اب میری نظروں کے سامنے سے غائب ہو جاؤ اس سے پہلے کہ میں تمہارا خون کر دوں"
شاہ میں نے اسی دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے بچی۔
پھر تیزی سے وہاں سے بھاگتے ہوئے راہداری کی طرف بڑھی۔
مراد جو اسی راہداری میں کھڑا کھڑکی کے باہر لان کو دیکھ رہا تھا جو کہ لائٹس کی وجہ سے اس وقت روشن تھی۔
اچانک ہی اس نے دیکھا کہ حریم بھاگتی ہوئی جارہی ہے اپنے آنسوؤں کو پہنچتی ہوئی۔ اس نے شاید مراد کی موجودگی میں محسوس نہیں کی تھی۔ اس کی شان اس کے سر سے ڈھلک کر شانے پر آ چکی تھی۔ جوڑے میں قید لمبے سیاہ چمکدار بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ تیزی سے راہداری عبور کرتی ہوئی کچن میں گھس گئی۔
اگلے ہی پل مراد کو خیال آیا کہ وہ شاہ میر کے کمرے سے نکل رہی تھی۔ وہ سوچ کر پریشان ہو گیا۔
( مجھے یقین نہیں آرہا شاہ میر کے اتنا گر سکتے ہو۔ایک مجبور لڑکی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم نے اُسے رات اپنے کمرے میں بلایا۔)
مراد نے دل میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
_________________
وہ اسی کمرے میں آ کر چارپائی پر لیٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
( کیسے سوچ لیا میں نے کہ وہ شخص نرم دل ہو سکتا ہے۔ کتنا غلط اندازہ لگایا میں نے اس کے متعلق۔ )
حریم نے سوچا۔
اور دوسری طرف شاہ میر بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا اور سر جھکا لیا۔ اس نے اپنے بال اپنی مٹھیوں میں جکڑ لئے پریشانی کی وجہ سے۔ اور پھر سے اپنا زخمی ہاتھ بیڈ سائیڈ پر زور سے مارا۔ جس کی وجہ سے درد کی ایک ٹیس اس کے ہاتھ میں اٹھی۔
" لعنت ہے مجھ پر۔۔۔ لعنت ہے مجھ پر۔۔۔ لعنت ہے مجھ پر۔"
اب وہ روتا ہوا کہتا جا رہا تھا۔
_______________
ولید شاہ میر کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس کے علاقے میں اس کی اجازت کے بغیر تو جیسے کوئی پرندہ پر تک نہیں مار سکتا تھا۔ اس کے علاقے میں تو وہ اسے قتل نہیں کر سکتا تھا۔
اور اگر وہ کسی کام سے شہر جاتا تو اپنے ساتھ گارڈز کی فوج لے کر جاتا تھا۔ اس واقعہ سے پہلے تو وہ ڈرائیور بھی ساتھ نہیں لے جاتا تھا خود ہی گاڑی ڈرائیو کرتا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد سلطان میر کے حکم پر اس نے گارڈ رکھ لیے تھے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جو دکھ اس کے باپ نے سہا ہے وہ دکھ اسے دوبارہ ملے۔ اس لیے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا تھا۔
ولید نے ایک جاسوس شاہ میر کی جاسوسی پر مامور کر دیا تھا۔ موٹی رقم دے کر۔
__________________
اگلے دن وہ پھر سوئی رہی۔
" اٹھ جاؤ اب روز روز سلطانہ بیگم تمہارے منہ پر پانی مارنے کے لیے نہیں آئے گی۔"
ساجدہ کی آواز اسے سنائی دی تو وہ اٹھ بیٹھی۔
" سلطان خاتون نے کہا ہے کہ تم ساری حویلی کو صبح سویرے اٹھ کر پہنچا لگاؤں گی۔ آج کے دن کا کام نہ کرنا فی الحال۔ "
ساجدہ نے کہا تو وہ اٹھی۔
" مجھے چائے پلا دو۔ ورنہ میرے سر میں درد ہو جائے گا۔ پھر جو کام کہو گی کر لوں گی۔" حریم نے سجدہ سے کہا۔
" نوکر نہیں ہوں تمہاری۔جا کر کچن میں خود بنا لو۔پھر جلدی سے کام پر لگ جاؤ۔" ساجدہ نے کہا تو مجبور اسے خود ہی کچن میں آنا پڑا جہاں پر پہلے سے چائے تیار تھی۔
اس نے ایک کپ بھرا اور پینے لگی۔
اسے رات والا سارا واقعہ یاد آیا۔
جو کام وہ کرنے گئی تھی وہ بھی نہیں ہوا۔ الٹا شاہ میر کا اتنا بھیانک روپ اسے دیکھنا پڑا۔
" چلو پراٹھے بنانا شروع کرو۔" نوری نے اسے دیکھ کر کہا۔
" پہنچا مارنے کا حکم صادر ہوا ہے سلطانہ خاتون کی طرف سے۔ آج پراٹھے نہیں بناؤں گی میں۔" حریم نے آرام سے کہا۔
ماتھے پر بل آگئے تھے۔ خوشی کے پراٹھے بنانے سے اب اس کی جان چھوٹ جائےگی۔
" چلو پھر لگاؤ ۔" نوری نے کہا۔
" چائے ختم کرنے دو مجھے۔ تمہاری نوکر نہیں ہوں میں ۔۔۔ شاہ میر کی غلامی میں آئی ہوں۔تمہاری غلامی میں نہیں۔ اپنی اوقات میں رہو تو بہتر ہوگا۔"
حریم نے جیسے دھمکی دی۔
" واہ جی واہ ۔۔۔ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔۔۔ "
نوری نے منہ بنا کر کہا۔
اور وہ کسی نوکر کی دباؤ میں آتی بھی تو کیوں۔۔۔ عادت جو نہیں تھی اسے ایسے رویے کی۔
لیکن اب حریم شاہ میر کو اپنی عادت بدلنے کی سخت ضرورت تھی اس حویلی میں۔۔۔ مگر ابھی اسے اندازہ نہیں تھا۔
سلطانہ خاتون نے اسے پہنچے کا کام صرف اس لئے دیا تھا تاکہ اسے غلامی کا زیادہ احساس ہو۔ وہ اس کی نظروں کے سامنے جھکی رہے۔اور وہ حقارت آمیز لہجے میں اسے دیکھتی جائے۔
حریم نے لاؤنج سے پوچھنا شروع کیا۔
سلطان خاتون ایک شام سے آکر صوفے پر بیٹھ گئی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر حریم کو دیکھنے لگی۔
اسے باور کرا رہی تھی کہ وہ باندی ہے۔
تھوڑی دیر بعد شاہ میر اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ دیکھا تو حریم پونچھا لگا رہی ہے۔
حریم نے سر اٹھا کر ایک نظر شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔
زخمی نظروں سے شاہ میر کو دیکھنے کے بعد اس نے نظریں جھکا لیں اور پھر سے پونچھا شروع کیا۔
شاہ میر نے اپنا نچلا لب دانتوں سے کاٹتا ہوا وہاں سے گزرنے لگا تو جان بوجھ کر سلطانہ خاتون نے اسے مخاطب کیا۔
" یہاں آو شاہ میر مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔"
سلطانہ خاتون نے حکم دیا تو وہ آ کر بیٹھ گیا۔
" جی بولیں اماں۔" ہمیشہ کی طرح اس نے فرمانبرداری سے کہا۔
" میں سوچ رہی ہوں کہ تمہاری شادی کر ہی دو اب۔۔ کب تک جنید کا غم مناتے رہیں گے ہم۔ آخر تمہاری زندگی تو آگے پڑھنی ہے۔ میری تو کوک اجاڑ گئی۔ مجھے تو اب اس زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ لیکن تمہارا تو حق ہے نا کہ تمہاری شادی وقت پر ہو۔ تمہاری نسل بڑھے۔ "
سلطانہ خاتون نے حریم کی طرف دیکھتے ہوئے جتانے والے انداز میں کہا۔ان کا مقصد یہی تھا کہ وہ ہر وقت اس کا دل جلاتی رہیں۔
" اماں میرا دل دکھ سے لبریز ہے اس وقت۔ آٹھ ماہ بھی کوئی عرصہ ہوتا ہے اپنے بھائی کی موت بھلانے کے لیے؟" شاہ میر نے کہا۔
" لیکن بیٹا دنیا تو یہی سوچے گی نہ کہ میں سوتیلی ماں ہو اور تمہاری خوشیوں کے بیچ میں آ رہی ہوں۔جتنا بھی خیال رکھو تمہارا لیکن یہ سوتیلی ماں کا لیبل تو ہمیشہ سے مجھ پر لگا ہوا ہے۔" سلطانہ خاتون نے کہا۔
" عبید سے بات ہوئی آپ کی؟" شاہ میر نے موضوع بدلا۔
" نہیں وہ شہر میں ہوتا ہے تو اسے ماں کی یاد کہاں آتی ہے۔ ایک جنید جو مجھے ہر پل یاد کرتا تھا۔ عبید کی تو اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ " سلطانہ خاتون نے کہا۔
عبید ان کا جنید سے چھوٹا بیٹا تھا۔ جو کہ ابھی کالج میں پڑھ رہا تھا۔اور شہر میں رہتا تھا۔
" اچھا اماں میں چلتا ہوں مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔" شاہ میر کہتا ہوا اٹھا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی نظر سے حریم کی طرف چلی گئی۔جو اب پونچھا لگاتے لگاتے راہداری پر پہنچ گئی تھی۔ شاہ میر کے جوتوں کی آواز سن کر اس نے پھر سے سر اٹھایا۔
دونوں کی نظر ایک بار پھر سے مل گئی۔ رات والا سارا منظر دونوں کے ہی ذہن میں گھوم گیا۔
آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا
جام دونوں اور دونوں ہی دو آتشہ
آنکھیں یا میکدے کے دو باب ہیں
آنکھیں انکو کہوں یا کہوں خواب ہیں
آنکھیں نیچی ہوئی تو حیا بن گئیں
آنکھیں اونچی ہوئی تو دعا بن گئیں
آنکھیں اٹھ کر جھکی تو دعا بن گئیں
آنکھیںجھک کر اٹھی تو قضا بن گئیں
آنکھیں جن میں ہے آسمان و زمین
نرگسی نرگسی۔۔ سرمئی سرمئی
نرگسی نرگسی۔۔ سرمئی سرمئی
اس کی آنکھیں دیکھ کر پھر سے شاہ میر کے دل سے آواز آئی۔لیکن وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
حریم کو آج اپنا آپ بہت چھوٹا لگ رہا تھا شاہ میر کے سامنے۔۔۔
آج واقعی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ "غلامی" میں آگئی ہے۔۔۔
Like like like... Jldi jldi jldi... 😐😐😜😜👀🤪2k tk phncho logo 15k se b or zyda log parhte ho or likes sirf 1 plus k 🤔😐🙄

Comments
Post a Comment