حویلی کی بیٹی از قلم وردہ زوہیب ایپیسوڈ 3

#حویلی_کی_بیٹی 💕

#از_قلم_وردہ_زوہیب 🖋 

#ایپیسوڈ_3



ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ایک نائٹ کلب میں بیٹھا وہ شراب کے گھونٹ پیتا ہوا بظاھر تو وہ سامنے منظر کو دیکھ رہا تھا لیکن حقیقت میں اس کی آنکھیں کسی غیر مرئی نکتے کی طرف مرکوز تھی۔


سامنے رنگ و بو کا ایک سیلاب سا تھا۔


حسینائیں تھیں جو محو رقص تھیں۔مگر اُسے نا حسیناؤں میں اس وقت کوئی دلچسپی محسوس ہو رہی تھی اور نہ ہی تو ان رنگ و بو میں۔۔۔ وہ تو محض وقت گزاری کے لیے روزانہ رات یہاں آ جایا کرتا تھا۔ پچھلے آٹھ مہینوں سے اس کا یہی معمول تھا۔ اس کے سامنے بیٹھا ہوا رشید جو کہ اس کا ملازم بھی تھا اور باڈی گارڈ بھی اس کی ہر حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔ 


دن کو اسی کہیں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔صبح سویرے وہ پارک میں واک پر جاتا تھا اور اس کے بعد تمام دوپہر سویا رہتا تھا۔ شام کو وہ اس کلب میں آجاتا اور رات گئے تک یہاں ہی رہتا۔ یقینا اس روٹین سے بے حد اکتا چکا تھا۔ مگر یہ اس کے بابا سائیں کا حکم تھا کہ سے اسی شہر میں رہنا ہے۔اور روپوش ہو کر رہنا ہے۔ 


بلو کلر کی جینس پر بلیک کلر کی شرٹ اور اس کے اوپر لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے وہ کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ وقفے وقفے سے شراب کے گھونٹ پی رہا تھا۔


ان آٹھ مہینوں میں اسے سب سے زیادہ نفرت رشید سے ہو گئی تھی۔جو ہمہ وقت کسی سائے کی طرح اس کے پیچھے تھا۔ 


وہ اچانک اٹھا تو رشید بھی ایک دم اس کے پیچھے ہو لیا۔


" واش روم جا رہا ہوں۔۔۔ کم ازکم وہاں تو پیچھا چھوڑ دو۔" اس نے بیزاری سے کہا۔ رشید واش روم کے دروازے کے باہر ہی کھڑا ہوگیا۔اس کی جیب میں پسٹل تھا جس کی کسی کو خبر نہیں تھی سوائے ظفر شاہ نواز کے۔


وہ پھر سے اپنی نشست پر بیٹھ گیا جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا۔ رشید پھر سے اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔


اتنے میں رشید کا موبائل بچا۔


"سائیں کالنگ" 


نمبر دیکھ کر شید ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔اور کلب کے باہر آگیا۔


" حکم سائیں۔" رشید نے کال اٹینڈ کی اور فوراً بولا۔


" ظفر کو جرگے کے فیصلے کے بارے میں کچھ معلومات تو نہیں ہوا نہ؟" آگے سے سے شاہنواز نے پریشانی سے پوچھا۔


" نہیں سائیں ابھی تک تو کچھ معلوم نہیں ہوا۔" رشید نے رازدارانہ انداز میں کہا۔


" رشید اسے کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے۔اگر اسے پتہ چلا کہ شاہ میر اس کی بہن لے گیا ہے خون بہا میں تو وہ یا تو خود کو شاہ میر کے آگے پیش کرکے حریم کو آزاد کروا دے گا۔یا پھر شاہ میر کو ہی قتل کر دے گا۔میری بات سمجھ رہے ہو نا تم؟" 


شاہنواز نے کہا۔


" جی سائیں سمجھ رہا ہوں۔۔۔ اگر چھوٹے سائیں کو یہ بات بتا چلی تو وہ دنیا کو آگ لگا دیں گے۔" رشید بھی پریشان تھا۔


" میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔پیسے وہ لینے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے جو بھی کیا اس کی جان بچانے کے لیے کیا۔" 


شاہنواز نے کہا۔


" لیکن سائیں اب تو ظفر سائیں آزاد ہیں نا؟" رشید نے شیشے کے پار بیٹھے ہوئے ظفر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔اصل میں فکر تو اسے اپنی آزادی کی تھی۔ظفر کی وجہ سے وہ خود آٹھ مہینے سے یہاں رہ رہا تھا۔ 


" میں ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا۔بظاہر تو خون بہا لے چکا ہے شاہ میر۔ لیکن اگر ظفر آزاد ہو گیا تو اس کو مار بھی سکتا ہے طیش میں آکر۔ مجھے حالات بہتر ہونے تک صبر کرنا ہوگا۔ بس تم ظفر پر کڑی نظر رکھو۔اس کا فیس بک اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ ہے نا؟ اسے سمجھاؤ کہ اگر اس نے لوگن کیا تو آسانی سے اس کی لوکیشن پتہ چل سکتی ہے۔ تم نہیں جانتے شاہ میر کو میں جانتا ہوں۔" شاہنواز نے کہا۔


" آپ فکر نہ کریں سائین چھوٹے سائیں کو اپنی جان پیاری ہے۔۔" رشید نے کہا۔


" مگر اسے اپنی جان سے بھی زیادہ حریم پیاری ہے تم جانتے ہو۔" شاہنواز نے کہا۔


" جی سائیں اسی بات کا تو مجھے بھی خوف ہے۔" رشید نے جواب دیا۔


" میں کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا۔فلحال مجھے جو بہتر لگا میں نے وہی کیا۔" شاہنواز نے کہہ کر کال کاٹ دی۔


ظفر شیشے کے پار سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا سوالیہ نظروں سے۔


" کس سے بات کر رہے تھے؟" رشید اندر آیا تو اس نے پوچھا۔


" بڑے سائیں کا فون تھا۔پوچھ رہے تھے آپ نے فیس بک پر لاگ ان تو نہیں کیا۔کہہ رہے تھے اس سے دشمنوں کو آپ کی لوکیشن کا پتہ چل سکتی ہے۔" 


رشید نے پھر سے تصدیق چاہی۔


" تم فکر مت کرو رشید۔۔۔ سب جانتا ہوں میں۔۔۔ نا پولیس کے ہاتھ لگوں گا اتنی آسانی سے اور نہ شاہ میر کے۔ ظفر شاہ نواز نام ہے میرا۔۔۔ " 


ظفر نے مشروب ختم کرکے گلاس میز پر پٹختے ہوئے کہا۔


________________


صبح سویرے اس کی آنکھ عجیب سی چیز سے کھلی۔


اگلے ہی پل اسے محسوس ہوا کہ اس کے منہ پر ٹھنڈا پانی کسی نے انڈیل دیا ہے اسے جگانے کے لئے.


" تیرے باپ کی حویلی نہیں ہے یہ جو دن چڑھے تک سوتی رہی توں۔ چل اٹھ اور کام پر لگ جا۔" 


سلطان خاتون اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی رہی تھیں۔


اس نے دوپٹے کے پلو سے اپنے چہرے سے پانی صاف کیا اور اٹھ بیٹھی۔


وہ ایسے سوئی تھی کہاں سے ہو شی نہیں رہا کہ رات کیا ہوا تھا۔لیکن اب پھر سے اسے سب یاد آ گیا تھا۔


اپنے گھر میں تو وہ سوتی تھی تو اس کی کمرے کے آگے کسی کو بیٹی کہنے کی بھی اجازت نہیں تھی کہ کہیں اس کی نیند خراب نہ ہو۔


" سردار بی بی آپ کیوں تشریف لائیں ہیں یہاں میں خود اسی جگا لیتی۔" ساجدہ نے پریشان ہو کر کہا۔کیونکہ سلطانہ شاذ و نادر ہی اس کے کمرے میں آتی تھیں۔ جب کوئی بہت رازداری کی بات ہو اور حویلی کے اندر نہ کی جا سکے تب۔


" اسی تکلیف میں دیکھ کر مجھے سکون ملا کل، اسی سکون کی تلاش میں آئی ہوں۔ " 


سلطانہ بیگم نے حریم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔


حریم کھڑی ہوگئی اور اپنے سوٹ کیس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں جو اُسے اسی کمرے کے ایک کونے میں پڑا ہوا ملا۔وہ شاید ساجدہ نے رکھوایا تھا رات اُس کے سونے کے بعد۔


اُس نے کھولا اور ایک سوٹ نکالا۔ 


اُس کے پاس برانڈڈ کپڑے تھے۔ اسٹائلش سے۔ اُس نے ایک سوٹ نکالا جو کہ سب سے سادہ تھا۔ 


"واشروم کہاں ہے؟" اُس نے ساجدہ سے پوچھا تو اس نے اشارے سے بتایا۔وہ واشروم گئی تو دیکھا وہاں ایک چھوٹا سا نل تھا جس کے نیچے ایک بالٹی رکھی ہوئی تھی جس میں ایک منرل واٹر کی کاٹی ہوئی بوتل تیر رہی تھی۔نہانے کا یہی سامان تھا یہاں۔ 


حریم کی آنکھ بھر آئی۔ خیر وہ جلدی نہا کر نکلی۔ اور سوالیہ نظروں سے ساجدہ کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کے کیا کام کرنا ہے۔۔ 


" چل کچن میں" ساجدہ اُسے ہاتھ پکڑتے ہوئے لے گئی ۔ حریم اس کے ساتھ کھیچتی چلی گئی۔


" یہ آٹا گوندھ اور پراٹھے بنانا شروع کر۔" ساجدہ نے حکم صادر کیا۔


اب وہ سامنے پڑے آٹے کو دیکھ رہی تھی۔


"مجھے آٹا گوندھنا نہیں آتا۔" تھوڑی دیر سوچنے کے بعد وہ بولی۔


آٹا تو اسے ملازمہ گوندھ کر دیتی تھی۔ وہ پراٹھے پکانا جانتی تھی۔ کیوں کے اسے کوکنگ کا بیحد شوق تھا۔ اُس نے کوکنگ کورس بھی کے رکھا تھا۔۔۔ شاید اس دن کے لیے۔۔۔ 


" پراٹھا پکانا تو آتا ہے نہ؟" ساجدہ نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔


" چل میری طرف دیکھ میں کیسے گوندھتی ہوں۔پھر سیکھ لے۔ " ساجدہ نے اسے آٹا گوندھ کر دیا۔ 


" لے اب پکا اس آٹے کے پراٹھے۔" ساجدہ نے گوندھے ہوئے آٹے کا پہاڑ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔


وہ دیکھنے لگی۔ 


" جلدی کرو۔ سائیں شاہ میر کو سویرے بھوک لگتی ہے " ساجدہ نے کہا۔ 


ساجدہ کچن کا کام کم ہی کرتی تھی۔ باقی ملازمہ حریم کو دیکھ رہی تھیں۔ 


ساجدہ چلی گئی۔


حریم نے پراٹھے بنائے شروع کیے۔ 


اُسے یاد آیا وہ جب بھی چھٹیوں میں حویلی آتی تھی تو ظفر کے لیے اپنے ہاتھ سے ناشتہ تیار کرتی تھی۔ ظفر اُس کے ہاتھ کے پراٹھے کھانے کے بعد اُس کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیتا تھا۔


اُس کی آنکھ بھر آئی۔


" ارے نوری ، شاہ میر سائیں جاگ گئے ہیں۔۔ چائے پراٹھا مانگ رہے ہیں۔ " اچانک سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی آئی اور نوری سے کہا جو ٹرے سجا رہی تھی شاہ میر کے لیے ہی۔


"لارہی ہوں۔" نوری ایک دم پراٹھا لینے بڑھی تو اُس کا پاؤں مڑ گیا۔ 


" اللہ جی" نوری کی آہ نکلی۔ وہ زمین پر ہی بیٹھ گی۔ 


باہر سے پھر نوری نوری کی پُکار سنائی دی۔


" سنو لڑکی۔ یہ ناشتہ شاہ میر سائیں کے کمرے میں دے آؤ۔ ایک منٹ صبر نہیں کرتے وہ۔" نوری نے اپنا پاؤں مسلتے ہوئے کہا۔


اور یہی تو حریم چاہتی تھی، شاہ میر کے کمرے تک رسائی۔۔۔ اُس نے فوراً ٹرے اٹھایا اور آگے بڑھی۔ 


سامنے ایک لمبائی راہداری تھی۔ ایک قطار تھی کھڑکیوں کی۔ اب شاہ میر کا کمرہ کونسا تھا اُسے نہیں معلوم۔ 


ایک لڑکا وہاں سے گزرا تو اُس نے پوچھا 


" سنیں شاہ میر سائیں کا کمرہ کہاں ہے؟" 


اُس لڑکے نے سر تا پا پہلے اُس کا جائزہ لیا پھیر ایک طرف اشارہ کر کے بولا۔


"اِدھر سامنے سے بائیں مڑ جانا۔ پہلا کمرہ اُنکا ہوگا۔" لڑکے نے بتایا۔


وہ آگے بڑھی سامنے لاؤنج تھا ۔ اُسے یاد آیا یہاں ہی تو کل اُسے پہلا تھپڑ پڑا تھا۔ پھر اسے یاد آیا کے کونسے کمرے میں شاہ میر گیا تھا رات۔


اُس نے دروازے پر دستک دی۔


" آجاؤ۔" آگے سے آواز آئی۔ 


حریم اندر آئی تو دیکھا وہ سر جھکائے موبائل میں کچھ دیکھ رہا ہے۔ حریم نے چند سیکنڈ میں کمرے کا جائزہ لیا۔ اس سے پہلے کے وہ سر اٹھاتا حریم جانے لگی۔


" سنو۔ " موبائل سے سر اٹھائے بغیر ہی وہ بولا تو حریم کا دل ڈوب گیا۔


اُس کے قدم منجمد ہوگئے۔


"فرسٹ ایڈ باکس لاکر میری پٹی چینج کرو" وہ یقیناً اُسے نوری سمجھ رہا تھا۔ 


وہ فوراً باہر آئی۔ 


" شاہ میر تمہیں بلا رہا ہے" اُس نے واپس آکر نوری سے کہا۔


" یہ کیسے بات کر رہی ہو تم چھوٹے سائیں کے بارے میں؟ بلا رہا ہے۔۔۔ شاہ میر۔۔۔ بولو شاہ میر سائیں بلا رہے ہیں۔" نوری نےکہا۔


حریم کچھ نہ بولی۔


نوری اب لڑکھڑاتی ہوئی اٹھی اور شاہ میر کے پاس آئی۔


" سائیں آپ نے بلایا؟" نوری نے کہا۔


" میں نے؟؟؟ میں نے تم سے کہا فرسٹ ایڈ باکس لاکر میری پٹی چینج کرو سنا نہیں کیا؟" شاہ میر نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا۔


" میں تو نہیں آئی تھی سائیں۔میرے پاؤں میں موچ آگئی تھی۔ وہ آپکی ۔۔۔ مطلب وہ ہے نہ سائیں ونی وہ لائی تھی ناشتہ۔ اُس نے کہا کہ آپ نے بلایا مجھے۔" 


نوری نے کہا۔


" وہ ؟؟؟ وہ کیوں آئی تھی یہاں؟" شاہ میر کا چہرہ سرخ ہوگیا۔


" بتایا تو ہے سائیں میرے پاؤں میں موچ۔۔ " نوری نے کہا۔


" اچھا اچھا اب دماغ نہ کھاؤ میرا۔ ہو کہا ہے وہ کرو۔" شاہ میر نے کہا۔


وہ اب ناشتے کو دیکھ رہا تھا۔


___________________


وہ پراٹھے پکا پکا کر تھک گئی تھی۔


مزید اُس میں جان نہیں رہی تھی کھڑا ہونے کی۔ 


" سنو میں تھک گئی ہوں باقی کے تم پکا دو۔ " اُس نے نوری سے کہا۔


" دیکھ نہیں رہی میرے پاؤں میں موچ آئی ہے۔ " نوری نے کہا۔  


" میں بھی تھک گئی ہوں۔مجھے عادت نہیں کام کی۔ آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔ میں بھی انسان ہوں کچھ تو خدا کا خوف کریں آپ سب۔" حریم نے بےبسی سے کہا تو نوری کو ترس آگیا۔


" چل ہٹ" نوری نے اُس سے کہا تو وہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ 


( نجانے کیا حال ہوگا میرے گھر والوں کا۔) حریم کو فکر تھی تو بس یہی۔


تھوڑی پشت سہلانے کے بعد اُسے آرام ملا۔ ورنہ کھڑے کھڑے پیروں کی جان نکل گئی تھی۔ وہ ایک صحت مند لڑکی تھی ۔ جم بھی جاتی تھی۔ خوش خوراک تھی۔ مگر سچ یہ ہے کہ کام انسان کو کمزور نہیں کرتا جتنا دکھ انسان کو ختم کرتا ہے۔


" سنو لڑکی ، سلطانہ خاتون کہہ رہی ہیں پونچھا لگاؤ۔بہت دھول جمع ہوگی ہے۔" 


ساجدہ نے آکر نیا حکم صادر کیا اور ایک ٹاول اس کی طرف اچھالا جو کے شاید پونچھے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ 


" میں تھک گئی ہوں۔" حریم نے کہا۔


" اٹھ جاؤ اس سے پہلے کے سلطانہ خاتون تمہیں بالوں سے گھسیٹی ہوئی لے جائیں۔" 


ساجدہ نے دھمکی دی تو وہ اٹھی۔


پونچھا بھگو کر اُس نے لاؤنج سے شروع کیا۔ اُس نے سی گرین سوٹ کے اوپر سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی۔اپنا سر ڈھانپ لیا تھا۔


" مراد تم نے رات والی ویڈیو بھیجی شاہ نواز کے گھر؟" 


حریم کو دیکھ کر جان بوجھ کر سلطانہ خاتون نے کہا۔


اور حریم کی تو جان ہی نکل گئی۔ 


( نہیں نہیں۔۔۔ میری ماں مر جائیگی دیکھ کر) اُس کی آنکھیں نم ہوئیں۔


مراد نے اُس کی طرف دیکھا پھر بولا۔


" نہیں سردار بی بی، محرم کی وجہ سے آج سارا دِن نیٹ کے سگنل بند رہیں گے ملک کے دیہاتوں اور شہروں میں۔ ایسے موقعوں پر دہشت گرد کے واقعات ہوتے ہیں نا اس لیے۔ کل بھیج دونگا۔ اور ویڈیو شاہ میر کے موبائل میں ہے میرے پاس نہیں " مراد نے کہا تو حریم کی جان میں جان آئی۔ 


اب اُسے صبح سے پہلے پہل وہ ویڈیو شاہ میر کے موبائل سے کسی طرح ڈیلیٹ کرنی تھی۔


_______________ 


سارا دن کام کر کر کی اُس کی جان ہلکان ہوگئی تھی۔دکھ اور پریشانی میں تو ویسے بھی انسان سے کوئی کام نہیں ہو پاتا۔


( ادا سائیں، کاش آپ یہ سب نہ کرتے۔کاش آپ صبر سے کام لیتے۔تو آج ہم ساتھ ہوتے۔ ) حریم اندھیرے کمرے میں آنسو بہا رہی تھی۔


وہ ساجدہ کے سونے کا انتظار کر رہی تھی۔ جب اُسے لگا کے وہ سوگئی ہے تو اس نے ساجدہ کے سرہانے پڑا ہوا ایک چھوٹا سا ٹارچ اٹھایا اور شال صحیح سے لپیٹ کر دبے پاؤں باہر آئی۔


رات کا ایک بج رہا تھا اور حویلی میں ہو کا عالم تھا۔


وہ کچن کے ذریعے اندر داخل ہوئی۔ سامنے وہی راہ داری تھی۔ اسے عبور کر کے لاؤنج تک آئی۔ یاد کرنے لگی کے شاہ میر کا کمرہ کونسا تھا۔ اُسے یاد آگیا۔


اُس نے دل سے دعا کی کے کمرہ لاک نہ ہو۔ اور یہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔


اُس نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا۔ 


وہ اندر داخل ہوئی اور دروازہ بند کیا۔


شاہ میر کے ہلکے خراٹوں کی آواز سن کر اُسے اطمینان ہوا کہ وہ گھہری نیند سو رہا ہے۔


بیڈ سائڈ پر پڑا اُس کا موبائل اٹھایا۔ تو اُس میں فنگر پرنٹ کا لاک لگا ہوا تھا۔ 


یہ اس کے لیے آسان تھا۔اگر کوڈ لگا ہوتا تو وہ نہیں کھول پاتی۔


اُس نے ٹارچ ایک طرف رکھی اور شاہ میر کا ہاتھ دیکھنے لگی۔ دائیں ہتھیلی پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ حریم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اُسے پڑنے ولا پہلا اور آخری تھپڑ تھا۔ 


اُس نے موبائل شاہ میر کے ہاتھ کے قریب کیا اور آرام سے انگوٹھے کی طرف لے گئی۔ 


اگلے ہی پل شاہ میر نے کروٹ لی اور حریم کا ہاتھ شاہ میر کے دونوں ہاتھوں کے بیچ دب کر رہ گیا۔


( اوہ ۔۔۔ نو۔۔۔۔ ) اُس نے پریشانی سے کہا۔


اب اگر ہاتھ کھینچ لیتی تو شاہ میر جاگ جاتا۔۔۔ وہ بےبسی سے وہاں ہی بیڈ کے قریب فرش پر بیٹھ گئی۔ 


اب وہ شاہ میر کے دوبارہ کروٹ لینے کے انتظار میں تھی۔۔۔


جاری ہے۔۔۔

Note : jldi jldi likes karte jao sab jo parhta jaye like and comment karta jaye.. 😍👍🏻👌🏼 

Comments