حویلی کی بیٹی از قلم وردہ زوہیب ایپیسوڈ 2

#حویلی_کی_بیٹی 💕

#از_قلم_وردہ_زوہیب 🖋 



#ایپیسوڈ_2

شاہ میر کی ویگو اُس کے علاقے کی طرف رواں دواں تھی۔ وہ آگے بیٹھا ہوا تھا۔ 


  پچیس سالہ مراد جو کے شاہ میر کا سب سے خاص بندہ تھا۔ وہ گاڑی ڈرائیور کر رہا تھا۔


حریم پیچھے بیٹھی اپنا کوئی گناہ یاد کر رہی تھی جسکی سزا اُسے آج اس صورت میں ملی تھی۔


سرخ رنگ کے گھیردار فراق میں دوپٹے کے پلو سے گھونگھٹ بنائے وہ بیٹھی شاہ میر کو دیکھ رہی تھی جس کا رخ آگے ونڈ اسکرین پر تھا۔


شفون کے باریک دوپٹے سے وہ اُسے دیکھ سکتی تھی۔


حریم کے ساتھ شاہ میر کی ایک ملازمہ بیٹھی ہوئی تھی جو کے خاص اسی لیے لائی گئی تھی۔ 


راستہ کافی لمبا تھا۔ 


اس سفر میں ان کو اب ڈیڑھ گھنٹہ بیت چکا تھا۔ آگے جانے اور کتنا سفر باقی تھا۔


تقریبا دو گھنٹے کے بعد گاڑی شاہ میر کے گاؤں کے حدود میں داخل ہوئی تو حریم نے دیکھا کہ گاؤں کے کچھ لوگوں نے اسلحہ ہاتھوں میں لیا ہوا ہے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی شاید خوشی کے مارے۔


یہ رسم ہوا کرتی تھی۔ جب کوئی بدلہ لے کر واپس آتا تھا تو گاؤں کے لوگ خوشی سے فائرنگ کرتے تھے۔لیکن بدلے کی وجہ سے نہیں بلکہ شاہ میر کے نکاح کی وجہ سے کی گئی تھی۔


گاؤں کے لوگ اس بات کو جیت سمجھ رہے تھے کہ سردار شاہ نواز کی بیٹی کو شاہ میر ونی میں لے کر آرہا ہے۔ 


حویلی پہنچتے پہنچتے شام کے سائے ڈھل چکے تھے۔اور رات نے اپنی چادر پھیلا لی تھی۔ 


حویلی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن تھی۔ یہ ماڈرن طرز کی حویلی تھی۔ جس میں اسٹائلش قسم کی لائٹس لگی ہوئی تھیں۔ کچھ سال پہلے ہی اس حویلی کو توڑ پھوڑ کر کے ماڈرن لُک دیا گیا تھا۔


شاہ میر کو اس لڑکی میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی جس سے کچھ دیر پہلے اس کا نکاح ہوا تھا۔


اور حریم کی نظروں میں شاہ میر اسی وقت گر گیا تھا جب اس نے اسے ونی میں مانگا تھا۔ پیسے مانگتا تو شاید حریم اُس سے اتنی نفرت نہ کرتی۔ 


شاہ میر کی گاڑی کے بریک مارتے ہی اُس کے پیچھے والی تمام گاڑیوں نے بھی بریک مار دی تھی۔


حریم کی حالت غیر ہونے لگی۔مگر اس نے خود کو مضبوط کیا ہوا تھا۔


شاہ میر ایک جھٹکے سے اُترا۔ 


"اسے اندر لے آؤ۔" 


حریم کے ساتھ بیٹھی ہوئی سجدہ کو وہ ہدایت دیتا ہوا آگے بڑھا۔


سجدہ حریم لے وہاں کے آئی۔ وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔


سامنے سلطانہ خاتون کھڑی تھیں۔


"لے آیا ہوں اماں ظفر کی بہن کو " شاہ میر نے سلطانہ خاتون سے کہا۔


یہ ونی والی پٹی بھی اُنہی کے پڑھائی ہوئی تھی شاہ میر کو۔ 


سلطانہ خاتون آہستہ سے چلتی ہوئی حریم کے قریب آئی۔ 


شاہ میر نے وہاں موجود تمام گارڈز اور ملازموں کو انگلی کے اشارے سے جانے کے کہا تو وہ سب کسی بوتل کے جن کی طرح وہاں سے غائب ہوگئے۔


اب وہاں صرف مراد ، سجدہ ہی کھڑے تھے۔ 


مراد شاہ میر کا خاص تھا اور سجدہ سلطانہ خاتون کی۔۔۔


"شاہ میر" سلطانہ خاتون نے نظروں کے اشارے سے کچھ حکم صادر کیا تو شاہ میر سمجھ گیا کے اب اُسے کیا کرنا ہے۔


حریم کسی مجرم کی طرح وہاں سر جھکے کھڑی تھی،جیسے کوئی بےجان مورتی ہو۔۔۔ تراشي ہوئی۔ 


شاہ میر آہستہ آہستہ سے چلتا ہوا اُس کے بلکل قریب آکر کھڑا ہوگیا۔  


" مراد۔۔۔ ویڈیو بھرو۔" 


شاہ میر نے اپنا موبائل مراد کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔


مراد نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کیمرہ آن کیا۔


حریم سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شاہ میر کیا کرنے والا ہے اُس کے ساتھ۔


حریم کی نظریں اب شاہ میر میں جوتوں کی طرف تھیں جو نوریزی طرز کے سیاہ چمکدار تھے۔ 


شاہ میر نے اس کا گھونگھٹ پلٹا۔ 


اُس نے دیکھا۔۔۔۔ اور دیکھتا رہ گیا۔۔۔


چہرہ ایک پھول کی طرح شاداب ہے

چہرہ اس کا ہے یا کوئی مہتاب ہے

چہرہ جیسے کلی۔۔ چہرہ جیسے کنول

چہرہ جیسے تصور بھی تصویر بھی

چہرہ ایک خواب بھی چہرہ تعبیر بھی

چہرہ کوئی الف لیلوی داستاں

چہرہ اک پل یقین۔۔ چہرہ اک پل گماں

چہرہ جیسے کہ چہرہ کہیں بھی نہیں

ماہرو ماہرو۔۔ مہ جبیں مہ جبیں۔۔


شاہ میر کے دل سے آواز آئی۔۔ وہ ایک پل کو اُس چہرے میں ایسے کھو گیا جیسے دنیا میں اس چہرے کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔


اور اگلے ہی پر جنید کا خون میں لت پت چہرہ اُس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ 


اُس کی آنکھیں تیش سے سرخ ہوگئیں۔


دل کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔ بدلے کی آگ جلانے لگی۔


اگلے ہی پل اُسکا ہاتھ اٹھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ حریم کے گال پر اُس نے دے مارا۔


یہ تھپڑ اتنا شدید کھا کے حریم اپنا توازن قائم نہ کر سکی اور لڑکھڑتی ہوئی ماربل کے فرش پر جا گری۔


حریم کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے۔ 


اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ شاہ میر نے اُسے تھپڑ مارا ہے۔ حالانکہ وہ اس سب کے لیے اپنا ذہن تیار کر کے آئی تھی۔ 


حریم نے نظر اٹھا کر شاہ میر کو حیرت اور دکھ سے دیکھا۔ 


مراد ویڈیو بند کر چکا تھا۔ 


مراد کا دل بھی جیسے دہل گیا اس منظر پر جیسے اُس نے ابھی کیمرے کی آنکھ میں قید کیا تھا۔


حریم شاہ میر کو دیکھ ہی رہی تھی کہ شاہ میر نے اپنا ہاتھ جس سے اس نے حریم کو تھپڑ مارا تھا اُسے سامنے والی کھڑکی پر دے مارا اور کھڑکی ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی۔ 


حریم نے دیکھا شاہ میر کی ہتھیلی سے اب خون رس رہا تھا۔


وہ اُسے حیران پر حیران کیے جارہا تھا۔


( کیا اس شخص نے خد کو سزا دی ہے؟؟؟ اس تھپڑ کی جو اُس نے مجھے مارا؟ اور اپنا ہاتھ زخمی کر دیا؟)


حریم سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔


وہ فرش پر ہی بیٹھ گئی۔ 


" شاہ میر ۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟؟" سلطانہ خاتون فوراً آگے بڑھیں اور اُس کا خون آلودہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ 


" سجدہ جلدی سے پٹی لاؤ " سلطانہ خاتون کی حکم پر سجدہ فورا بھاگتی ہوئی گی اور فرسٹ ایڈ کا سامان لے آئی۔


" تم سے ایسی بچکانہ حرکت کی توقع ہے کہ نہیں تھی مجھے شاہ میر۔" سلطان خاتون نے اس کے ہاتھ میں پٹی باندھ دیتے ہوئے کہا۔


شاہ میر نے ایک نظر حریم پر ڈالی۔جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بچہ کسی جن سے خوفزدہ ہو کر اُسے دیکھ رہا ہو۔


آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا

جام دونوں اور دونوں ہی دو آتشہ

آنکھیں یا میکدے کے دو باب ہیں

آنکھیں انکو کہوں یا کہوں خواب ہیں

آنکھیں نیچی ہوئی تو حیا بن گئیں

آنکھیں اونچی ہوئی تو دعا بن گئیں

آنکھیں اٹھ کر جھکی تو دعا بن گئیں

آنکھیں‌جھک کر اٹھی تو قضا بن گئیں

آنکھیں جن میں ہے آسمان و زمین

نرگسی نرگسی۔۔ سرمئی سرمئی

نرگسی نرگسی۔۔ سرمئی سرمئی


شاہ میر کے دل سے پھر آواز آئی۔۔۔ حریم کو جھیل سی آنکھیں دیکھ کر۔


اُس نے پھر سر جھٹک دیا۔


وہ اب صوفے پر بیٹھ تھا اور سلطانہ خاتون اُس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھیں۔


مراد بھی حیران تھا۔ وہ اب حریم کو دیکھ رہا تھا۔ پھر شاہ میر کے خوف سے نظریں ہٹا لیں۔اس کے دائیں کنڈے پر رائفل لٹک رہی تھی۔ ہلکی داڑھی ، سفید رنگ کا لباس۔۔۔ کاندھے پر سیاہ شال اوڑھے۔۔۔ 


حریم اُس کے ہاتھ میں موبائل کو دیکھنے لگی جس میں اُس نے ویڈیو بھری تھی۔


" مراد یہ ویڈیو شاہ نواز کے گھر کیسی کا نمبر دیکھ کر انہیں بھیجنا کل۔ آج کے لیے اس لڑکی کی رخصتی ہی کافی ہے۔" سلطانہ خاتون نے مراد سے کہا۔


( یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ میرے گھر والے تڑپ جائیں گے۔) حریم کی حالت غیر ہوگئی ویڈیو کا سوچ کر۔


اماں میں تھک گیا ہوں۔ مجھے آرام کرنا ہے۔" شاہ میر کہتا ہوا اٹھا اور ایک نظر پھر حریم پر ڈالی۔ 


" اور یہ لڑکی سائیں؟" سجدہ فوراً بولی۔


" مجھے نہیں پتہ اس کا۔۔۔ میری نظروں کے سامنے نہ آنے پائے یہ لڑکی آج کے بعد۔۔۔ " شاہ میر کہتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔


شاہ میر کے جانے کے بعد سلطانہ خاتون اٹھیں اور حریم کے قریب آئیں۔


" اگر تیرے بھائی میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو وہ تُجھے آزاد کروانے ضرور آیگا۔۔۔ لیکن تب تو حویلی میں ایک ملازمہ کی حیثیت سے رہے گی۔ اور شاہ میر کی بیوی کے مقام کا تو سوچنا بھی مت۔۔۔ یہ تھپڑ جو آج تُجھے پڑا ہے ہر پل تُجھے تیری اوکات یاد دلائے گا۔ جس دن ظفر نے خد کو شاہ میر کے حوالے کر دیا۔۔۔ اُس دِن تو آزاد ہوجائے گی۔ " 


سلطانہ خاتون نے کہا اور کھڑی ہوگئیں۔


" ساجدہ اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ " سلطانہ خاتون نے کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔ 


اب وہاں صرف حریم ، سجدہ اور مراد موجود تھے۔


ساجدہ نے حریم کو بازو سے پکڑا۔ 


" چل اٹھ۔" ساجدہ انتہائی ہتک آمیز لہجے میں بولی۔


" آرام سے ساجدہ۔۔۔ شاہ میر کی بیوی ہیں یہ۔ مت بھول نکاح ہوا ہے ان کہ شاہ میر سے۔" مراد سے یہ سلوک نجانے کیوں برداشت نہیں ہو رہا تھا۔


" تمہیں بڑا ترس آرہا ہے اس پر۔" ساجدہ نے منہ بنا کر مراد سے کہا۔


مراد نے ایک نظر حریم پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔


___________________


شاہ نواز کی حویلی میں رات کے اس پہر موت کہ سا سناٹا تھا۔ہر فرد پہلو بدل رہا تھا مگر نیند کسی کو بھی نہیں آرہی تھی۔


" یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا۔" آمنہ بیگم سجدہ ریز تھیں۔ 


" سو جاؤ آمنہ، " شاہ نواز نے اپنی بیگم سے کہا۔


" آپ سو سکتے ہیں؟" آمنہ بیگم بولیں۔


" ایک نہ ایک دن تو اسے اس گھر سے رخصت ہونے ہی تھا۔" شاہ نواز بلوچ نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔


" اس طرح سے؟؟؟ اسے آپ رخصتی کہتے ہیں؟ کوئی جنازہ بھی ایسے نہیں جاتا ۔۔۔ جیسے میری بیٹی گئی ہے۔ مردے کو بھی اُمید ہوتی ہے کہ خدا اُس کے ساتھ خیر کا معاملہ کرے گا۔۔۔ مگر میری بیٹی تو درندے کے پاس گئی ہے۔" آمنہ بیگم نے کہا۔


" شاہ میر درندا نہیں ہے۔ " شاہ نواز نے کہا۔


" آپ دے لیں خد کو دلاسہ۔۔۔ جیتنا دینا ہے۔ سچ یہی ہے کہ میری بچی ۔۔۔" آمنہ بیگم رونے لگیں۔


نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔۔۔ سو اس حویلی کے مکینوں کو بھی آگئی تھی۔ 


__________________


ولید اپنی رائفل صاف کر رہا تھا۔ وہ بپھرا ہوا شیر بنا بیٹھا تھا۔


" شاہ میر مرے گا میرے ہاتھوں۔۔۔ سمجھتا کیا ہے کہ میری منگ لے جائیگا اور میں تماشہ دیکھتا رہوں گا؟ " 


ولید نے کہا۔


" آرام سے ولید آرام سے۔۔۔ ظفر والی غلطی نہ کرنا۔" ریان نے سمجھایا ۔


وہ دونوں حویلی کی چھت اور بیٹھے ہوئے تھے۔


" سمجھ انہی آتا کہ ظفر کو زمین کھا گئی یاں آسمان نگل گیا۔۔۔" ولید بولا۔


" مجھے تو لگتا ہے شاہ نواز چچا نے اسے خود روپوش کرا دیا ہے۔سب ڈراما ہے ہے کہ ظفر بھاگ گیا۔" 


ریان نے کہا۔


" مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔" ولید نے رائفل لوڈ کرتے ہوئے کہا۔


__________________


حریم بوجھل قدموں سمیت ساجدہ کے کمرے میں آئی جو کہ حویلی کے پچھلی طرف تھا۔ وہاں دو چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں۔ 


" یہ تمہارا بستر ہے۔" ساجدہ نے ایک لحاف چارپائی پر بچھاتے ہوئے کہا۔


حریم وہاں لیٹ گئی۔


" پہلے تو مجھے لگا شاہ میر گیا کام سے۔۔۔ جب اس نے تمہارا گھونگھٹ پلٹا تب۔۔۔ پھر ضرور بھائی کی یاد آگئی ہوگی۔" ساجدہ نے اپنی چارپائی اور لیٹتے ہوئے کہا۔


" ویسے ایک بات بتاؤں۔۔۔ یہ کی سلطانہ بیگم ہیں نا۔۔ یہ شاہ میر کی سگی ماں نہیں ہیں۔ شاہ میر کی ماں تو اُسے جنم دیتے ہی زچگی کے درد میں مر گئی تھیں۔ پھر سال بعد سلطان میر نے سلطانہ خاتون سے نکاح کیا۔ 


اُن کا نام تو شگفتہ ہے۔۔۔ لیکن سلطان میر کی وجہ سے اُن کا نام سلطانہ رکھا گیا یہاں آکر۔ " ساجدہ بتانے لگی۔ وہ باتوں کی بےحد شوقین تھی۔۔۔ اور نئے انکشافات کرنے کی بھی۔ تو وہ اپنا شوق پورا کر رہی تھی۔


حریم اپنے ماتھے اور اپنا بازو رکھے کسی غیر مرئی نکتے کو تکے جا رہی تھی۔ پتا نہیں وہ ساجدہ کو سن بھی رہی تھی یاں نہیں۔۔۔ 


" جنید سائیں نہ سلطانہ خاتون کے بیٹے تھے۔یعنی شاہ میر سائیں کے سوتیلے بھائی۔۔۔ لیکن پیار سگوں سے بھی بڑھ کر تھا دونوں میں۔ " ساجدہ نے بتایا۔


" شاہ میر سائیں تو سلطانہ خاتون کے حکم کے تابع ہیں۔ جیسا وہ کہتی ہیں وہ ویسا ہی کرتے ہیں۔۔۔ تمہیں خون بہا میں مانگنے کا حکم بھی سلطانہ خاتون نے ہے دیا تھا شاہ میر سائیں کو " ساجدہ نے کہا۔


ساجدہ بولے جارہی تھی کہ اچانک حریم کو دیکھا تو وہ سو چکی تھی۔ 


" بیچاری"۔ ساجدہ نے کہا اور لائٹ آف کر دی۔


_________________


وہ پہلو بدل بدل کر تھک گیا تھا۔ 


اُسے ہاتھ میں درد ہو رہا تھا۔ اُس نے پین کلر لیا اور پھر سے لیٹ گیا۔


بار بار آنکھوں کے سامنے حریم کا چہرہ آجاتا۔ 


اب وہ اپنے پٹی شدہ ہتھیلی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

جارى ہے۔۔۔ 

Note : jaldi jaldi se like and review dekr haq ada kar do sab writer ki mehnat ka taqi khush hokr wo acha sa likhen.. 😇😇👍🏻👍🏻

Meri trf se episode ko #1_laakh likes hen haha 🤣🤣😜😜👍🏻👍🏻👍🏻😉 

Comments