انکار سے اقرار تک قسط نمبر 2

#انکار_سے_اقرار_تک 



#by_laiba_aslam  

#قسط_نمبر_2

وجدان شاہ لان میں بیٹھے کافی پی رہے تھے. اور ساتھ ہی اخبار پڑھ رہے تھے

ارے آگیا میرا بچہ آج لیٹ آۂی ہو خیریت۔جانان کو دیکھتے ہی وجدان شاہ نے اخبار سائڈ ٹیبل پر رکھ دی

جی بابا بہت تھک گئی فائزہ نے شاپنگ کرنی تھی آپ کو تو پتا ہی ہے نہ اس کا اس وجہ سے دیر ہوگئی ۔ جانان وجدان صاحب کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے بولی

اچھا پھپھو سے مل کر آئے ہو آپ مائے ڈال۔وجدان شاہ نے دھیرے سے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے پوچھا

نہیں بابا جانان فوراً پیچھے ہو کر بیٹھ گئ 

کیا ہوا میری جان آپ ان سے ناراض ہے

نہیں بابا میں کسی سے ناراض نہیں ہوں۔بس دیر ہورہی تھی اس وجہ سے نہیں گئ۔جانان اب کیا بتاتی باپ کو کے اس گھر میں جاتےہی اسے اس دشمنِ جاں کی یاد ستاتی ہے

اچھا چلو میں حنان بھائی سے بات کرتا ہوں کہ بھئ اب شایان کو واپس بلا لے اب ہم بھی اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنا چاہتے ہیں

نہیں بابا ہمیں شادی نہیں کرنی پلیز مجھے باہر جانا ہے پڑھائی کے لیے ۔شایان کا نام سنتے ہی اسکی آنکھیں نم ہوگئی

ٹھیک ہے بیٹا آپ شایان کے ساتھ چلی جانا 

نہیں بابا ۔جانان نے صاف انکار کر دیا

ٹھیک ہے میرا بچہ جیسا آپ چاہو گے ویسا ہی ہوگا۔وجدان شاہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آئ نمی کو بھانپ گئے مگر وجہ نہ سمجھ سکے

اوکے بابا میں فریش ہو کر آتی ہوں۔

🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁

وہ روزانہ کے معمول کے مطابق آج بھی پارک آیا ہوا تھا تازہ ہوا کے لیے

 پارک میں داخل ہوتے ہی لوگوں کی ستائشی نظریں اسے اپنے اوپر محسوس ہوئی مگر نظر انداز کرتا آگے کو چل دیا

وہ صاف شفاف گوری اور سرخ رنگت اس پر ہلکی براؤن بیرڈ چاکلیٹی آنکھیں براؤن بھکرے بال ماتھے پر سجائے ۔ چوڑی جسامت کالے رنگ کی جاگنگ ہالف سلیو شرٹ اور ٹراؤزر پہنے تمام لڑکیوں کو اپنی جانب کینچھ رہا تھا 

ہائے شایان ۔روزی ہاتھ ہلاتی ہوئی شایان کے پاس آئ 

ہائے روزی واث اے پلیزنٹ سر پرآئس۔شایان روزی سے ہاتھ ملاتے ہوئے مخاطب ہوا ۔پارک میں موجود دوسری لڑکیاں روزی کی بےتکلفی دیکھ کر حسد محسوس کرنے لگ گئی

آج ہی واپس آئی ہوں لندن سے مجھے پتا تھا تم اس وقت یہی ملو گے

آنٹی انکل کیسے ہیں

بلکل ٹھیک

چلو آؤ وہاں بیٹھ کے بات کرتے ہیں ۔شایان اسے قریبی بنچ کی جانب اشارہ کرتا لے گیا ۔

💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮

فائزہ بیٹا جانان سے ملی تھی ۔نازش بیگم نے اپنی بیٹی سے پوچھا

جی مما اسی کے ساتھ شاپنگ کرنی گئ تھی

بیٹا جانان کو لے آتی نہ بہت یاد آرہی ہے اسکی 

مما دیر ہورہی تھی اس لیے ۔ فائزہ اپنی ماں کی جانان کے لیے محبت با خوبی سمجھتی تھی 

بیٹا تیار ہو جاؤ ہم آج شام کو تمہارے ماموں کے گھر جارہے ہیں ۔حنان صاحب جو بیگم کو پریشان حال میں نہیں دیکھ سکتے تھے انکے لیے جانے کا فیصلہ کیا

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

 وہ آۂینے کے سامنے کھڑی آنسوں بہا رہی تھی اور صدمے کی سی حالت میں اپنے چہرے کو چھو رہی تھی کہ آخر اس میں کیا کمی تھی جو اسے وہاں سے ٹھیرایا گیا تھا جہاں سے کبھی امید نہیں تھی

وہ بلاشبہ بہت حسین تھی۔ دودھیا رنگت سرخ مائل گال۔نیلی آنکھیں جو اس نے ورثے میں اپنے باپ سے لی تھی۔ گھنی پلکیں نازک گلاب کی طرح ہونٹ پتلی کھڑی ناک جو اس کے حسن کو اور مغرور بناتی تھی ۔لمبے گھنے گولڈن بال بلکل ایک سلطنت کی شہزادی کی طرح ۔ وہ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ نرم دل اور مخلص بھی تھی

دروازے پر دستک کی آواز سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی

جی آجائیے۔ وہ آنسوں صاف کرتی سیدھی ہوئ 

چھوٹی بی بی جی آپ کو بڑے صاحب بلارہے ہیں کھانے پر۔ ملازمہ پیغام دے کر چلی گئی

جانان جلدی سے اپنا معائنہ کرتی کہ کہیں گھر والوں کو شک نہ ہو کہ وہ روۂی ہے آۂینے کی طرف دوبارہ متوجہ ہوئی ۔

کالی شلوار قمیض جس پر کالے رنگ کے ہی ستارے اور کڑھاۂی ہوئی تھی گلے میں لال رنگ کا دوپٹہ لیے سیدھی مانگ نکال کر کھلے بال کمر پر پھینک کر وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حنان شاہ اور وجدان شاہ چچازاد بھائی تھے

حنان شاہ کی چھوٹی بہن رفعت بیگم کی شادی وجدان شاہ سے ہوئ تھی 

حنان شاہ کی شادی وجدان شاہ کی بڑی بین نازش بیگم سے ہوئ

حنان شاہ اور نازش بیگم کے دو بچے تھے بڑا بیٹا شایان شاہ اور اس سے آٹھ سال چھوٹی بیٹی فائزہ شاہ

وجدان شاہ اور رفعت بیگم کے تین بچے تھے بڑا بیٹا ساحل شاہ(شایان شاہ سے ایک سال) بڑا چھوٹا بیٹا فیضان شاہ(ساحل سے پانچ سال چھوٹا) اور فیضان شاہ سے پانچ سال چھوٹی بیٹی جانان شاہ۔

🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

اسلام علیکم۔ جانان نیچے آئ تو پہلے تو ماموں اور پھپھو کو دیکھ ٹھٹھکی پھر سب کو سلام کیا۔

وعلیکم اسلام ۔حنان صاحب نے کہا

جانان واپس پلٹنے ہی لگی تھی کہ پھپھو نے اسے آواز دی اور اٹھ کر گلے لگا لیا

بیٹا جب بھی آؤ تم مصروف ہوتی ہو آج ہم اچانک اسی لیے آئے ہیں کہ تم سے ملاقات ہو جائے

ارے پھپھو آپ کو تو پتا ہی ہے نہ یونی میں اتنا. کام ہوتا بس اسی لیے۔

آؤ بیٹا بیٹھو رفعت بیگم کھانا لگاۂے ۔وجدان شاہ پہلے جانان سے پھر اسکی ماں سے مخاطب ہوئے

بھئ وجدان کب ہماری امانت ہمیں دو گے۔نازش بیگم نے اپنے چھوٹے بھائی کو مخاطب کیا

جب اپکا دل کرے آپا۔ اپنی بات مکمل ہونے کے بعد وجدان صاحب کی نظر اپنی آنسوں پیتی بچی پر پڑی 

تو چلو ٹھیک ہے ۔وجدان شاہ نے اپنی بہن کی بات کاٹی

ایک منٹ آپا۔ سب سنجیدہ ہوگئے 

آپا جانان ابھی پڑھنا چاہتی ہے اور میں اسے جلد ہی ترکی بھیج رہا ہوں

مگر وجی۔ نازش بیگم نے کچھ کہنا چایا

اگر مگر کچھ نہیں آپا جانان آپکی ہی امانت ہے

نازش وجدان ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ حنان شاہ نے بیگم کو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے انہیں تسلی دی نازش بیگم نے اثبات میں سر ہلا دیا

 آخر جو انہیں بھی شایان کو منانے کیلئے ٹائم چاہیے تھا مگر انہیں کیا معلوم کہ انکے علاوہ جانان کو بھی یہ بات پتا تھی کہ شایان یہ نکاح ختم کرنا چاہتا ہے حنان صاحب نے پوری کوشش کی تھی یہ بات سب سے چھپانے کی کیونکہ وہ اپنی بہن کو کھونا نہیں چاہتے 

چلے آپا آۂیے کھانا کھاۂے 

🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀🍀☘️☘️


 ہر وقت چہکنے والی جانان اپنے سسرال والوں کے سامنے افسردہ ہو جاتی تھی ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنی پھپھو اور ماموں سے محبت نہیں تھی بلکہ اس دن سنی گئ ماموں اور شایان کی باتوں نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا


جانان ماموں سے ملنے انکی سٹڈی کی جانب آۂی ماموں کسی کے ساتھ کال میں مصروف تھے پلٹنے ہی لگی تھی شایان کا نام سن کے رک گئی

شایان بیٹا آخر جانان میں کیا کمی ہیں آپ کیو اسکے ساتھ رشتہ قائم نہیں رکھنا چاہتے ۔ یہ سنتے ہی جانان کی دھڑکن رک گئی اسے آج پتا چلا کہ پیرو کے نیچے سے زمین نکل جانا کیسا ہوتا ہے

شایان میں تمہاری ماں کو یہ سب نہیں بتا سکتا میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنے بھائی کو اور میں اپنی بہن کو کھو دو سمجھے

جانان آنسو ضبط کرتی باہر کو بھاگی۔۔

گاڑی نکالو مجھے گھر جانا ہے ۔جانان ڈرائیور کو حکم دیتی گاڑی میں بیٹھ گئ

گھر آکر بھی سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔اور روتی رہی 

❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤

نوٹ:

گائز کل آپکے بہت اچھے ریویو تھے تھینکیو سو مچ 

میں اس سے زیادہ لمبی ایپی نہیں دے سکتی یہ لکھنے میں بھی مجھے 3 گھنٹے لگے ہیں

جلدی جلدی بتاۂے کیسی لگی اپکا اج کی ایپی 

Comments