#حویلی_کی_بیٹی 💕
#از_قلم_وردہ_زوہیب 🖋
#ایپیسوڈ_1
پچھلے آدھے گھنٹے سے جرگے میں جمع سب لوگ شاہ میر بلوچ کا انتظار کر رہے تھے۔
اور وہ سردار ہی کیا جو انتظار نہ کروائے۔
ہاں وہ سردار تھا۔ علاقے کا نیا سردار۔
ستائیس سالہ نوجوان ، سلطان میر بلوچ کا وارث۔ امریکہ سے گریجویٹ اور ماسٹرز کی ڈگری۔۔۔
اسی رگ رگ میں سرداری بھر دی گئی تھی۔
سلطان میر بلوچ نے نے ہر پل اُسے یہ باور کرایا تھا کہ اُسے وطن واپس آنا ہے اور اس کی جگہ سردار بننا ہے۔
شاہ میر بلوچ کو خوف بھی یہی زندگی اٹریٹ کرتی تھی۔ وہ بادشاہ بننا پسند کرتا تھا۔ ہوئے حکومت چاہیے تھی چاہے وہ علاقے کی ہی کیوں نہ ہو۔
شاہ میر بلوچ کو تختہ نہیں تخت چاہیے تھا۔ اور مل گیا۔
امریکہ سے واپس آتے ہی اُسکی دستار بندی کی محفل سجائی گئی اور اسے سردار بنایا گیا۔
لیکن اس کی خوشی اُسے دن ماتم میں بدل گئی جب اس کے چھوٹے بھائی جنید میر بلوچ کی لاش خون میں لت پت حویلی لائی گئی۔
اور اب وہ بدلے کی آگ میں جل رہا تھا۔
لیکن مقابل گروہ بھی کوئی کم طاقتور نہیں تھا۔
قاتل دوسرے علاقے کے سردار کا اکلوتا بیٹا ظفر نواز بلوچ تھا۔
مقابلہ ٹکر کا تھا۔
اچانک سے گاڑیوں کی ایک قطار سامنے سے آتی دکھائی دی۔
ویگو ،پجاور اور بہت سی گاڑیاں۔
پہلے تمام مسلح گارڈز اترے۔ پھر دروازہ کھولا۔
شاہ میر ایک شاہ سے اترا۔
سیاہ رنگ کی قمیض ، گھیردار شلوار سر پر روایتی پگ۔ اپنی شال بائیں کندھے پر ٹھیک کرتا ہوا وہ آکر بیٹھ گیا۔
"شاہ میر ، یہاں بہت سی معزز ہستیاں صلح کی کوئی صورت نکالنے کے لیے جمع ہوئی ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کے علاقے کے دو سرداروں کو مابین خون خرابا ہو اور علاقائی دشمنی کی شروعات ہو۔
ہم سب یہاں اتنے سالوں سے امن کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اسی امن کو قائم رکھنے کے لیے پیر نصیر الدین شاہ تشریف لائے ہیں اور ساتھ دیگر شخصیات بھی۔
شاہ نواز بلوچ تمہیں اپنے بیٹے کے بدلے منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہے۔ "
جرگے کے سردار نے شاہ میر سے کہا۔
"مجھے خون بہا میں ظفر کی بہن چاہیے۔"
اچانک سے شاہ میر نے کہا تو مقابل کے گروہ سے ولید بلوچ تیش میں آکر کھڑا ہوگیا۔
" حرام زادے تیری ہمت کیسے ہوئی میری منگیتر کا نام لینے کی؟"
ولید بلوچ شاہ میر پر حملے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ سب نے اُسے روک لیا۔
" ولید آرام سے بیٹھ جاؤ۔ ہم یہاں خیر کروانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ تمہاری ایک غلطی پھر سے شر کو ہوا دے سکتی ہے۔ "
ولید کے چچا زاد بھائی ریان نے اُس کے کان میں سرگوشی کی۔
" شاہ نواز ، تم اپنے لڑکوں کو آرام سے بیٹھنے کا کہو۔ ہم سب سرداروں کو لے کے آئے ہیں تاکہ تم دونوں گروہ میں صلح کی کوئی صورت نکل سکے۔ اگر تمہارے لڑکے ایسے ہی جذباتی ہونگے تو معاملہ بگڑ جائیگا۔ "
سردار نبیل احمد نے ظفر کے والد شاہ نواز بلوچ سے کہا۔
دوسری طرف شاہ میر چہرے پر سختی سجائے اطمینان سے بیٹھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مقابل گروہ کے لیے اُن کی بہن بیٹی کا ذکر کرنا کیسے اُن کے تن بدن میں آگ لگانے کے مترادف تھا۔
" شاہ نواز بلوچ تمہارے پاس دو ہی آپشن رکھ رہا ہوں میں۔۔۔ یاں تو ظفر کو میرے حوالے کر دو تاکہ میں اُسے گولیوں سے بھون دوں۔ یاں پھر اپنی بیٹی مجھے خون بہا میں دے دو۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں نکل سکتی۔ پیسے میں لونگا نہیں خون بہا میں۔ یاں بیٹا دو یاں بیٹی ۔۔۔ میری بات حرف آخر ہے۔"
شاہ میر کہتا ہوا کھڑا ہوا۔ اُس کے ساتھ اس کے مسلح گارڈز اور اس کے کزنز سب کھڑے ہوگئے۔
تھوڑی دیر میں اُن کے پجارو اور ویگو گاڑیوں کے ٹائروں سے اُڑتی ہوئی دھول دکھائی دی۔
اُس نے واقعی مقابل گروہ کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔۔۔
_____________
وہ پھولوں کی کیاریوں کو کریدتی ہوئی ان کو ٹھیک کر رہی تھی۔ سرخ گلابوں کے بیچ وہ بھی گلاب کے جیسے ہی لگ رہی تھی اس وقت۔اس کے ہاتھ مٹی میں لدے ہوئے تھے۔
وہ اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔ پھولوں کا جائزہ لینے لگی۔بہت محبت سے اس نے باغ میں پھول اگائے تھے۔
ایک گملا اٹھایا اور اُس کے رکھنے کی جگہ تلاش کرنے لگی تھی کہ اچانک حویلی کی ملازمہ نسرین بھاگتی ہوئی آئی۔
" غضب ہوگیا بی بی صاحبہ۔" نسرین نے پھولی ہوئی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
" کیا ہوا؟ کیوں دل دہلا رہی ہو؟ جلدی بتاؤ کیا بات ہے؟ " سامنے ہی چارپائیوں اور اس کی والدہ ، پھوپھیاں ، خالہ اور چچیاں اور دادی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں تو نسرین کی بات سن کر آمنہ بیگم بولیں۔
گملا ابھی بھی اُس حریم کے ہاتھ میں تھا اور وہ سے گھمائے پوری طرح سے نسرین کی طرف متوجہ تھی۔
" ونی میں حویلی کی بیٹی کو مانگا ہے شاہ میر نے۔"
نسرین بات سن کر تمام خواتین ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئیں۔
اور دوسری طرف حریم کے ہاتھ گملا چھوٹ کر نیچے گر گیا۔
" یہ نہیں ہو سکتا۔"
حریم نے ایک دم کہا۔
" یہ نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم اپنی پھولوں جیسی حریم کسی صورت بھی اس درندے کو نہیں دے سکتے۔شاہ نواز نے اُسے منہ مانگی قیمت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ شاہ نواز اپنی بیٹی ہرگز نہیں دینگے."
آمنہ بیگم نے کہا.
" وہ دے چکے ہیں۔۔۔۔"
نسرین نے کہا تو وہاں موجود کسی کو بھی اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔
اگلے ہی پل حریم ایک جھٹکے سے زمین بوس ہوئی تو سب اُس کی طرف لپکے۔
" حریم میری بچی۔۔۔ ہوش میں آؤ۔" آمنہ بیگم اُس کے گال تھپتھپا کر پریشانی سے بول رہی تھیں۔
_______________
جرگے کے فیصلے سے واپس آتے ہیں وہ اپنے والد سلطان میر کے کمرے میں داخل ہوا۔
سلطان میر بلوچ کو اپنے چھوٹے بیٹے جنید کی موت کی خبر سنتے ہی دل کا دورہ پڑ گیا تھا اور تب سے لے کر وہ بستر پر تھے پچھلے آٹھ مہینے سے۔۔ ۔ صدمے سے نڈھال۔
" کیا فیصلہ ہوا جرگہ کا؟ ظفر کو تمہارے حوالے کیا یا نہیں شاہ نواز نے؟"
سلطان میر بلوچ نے سوال کیا۔
" شاہ نواز بلوچ کی بیٹی مانگی ہے میں نے خون بہا میں۔"
شاہ میر نے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
" بیٹی؟ ایسا کیوں کیا تم نے؟ مجھے میرے بیٹے کا قاتل چاہیے۔ نہ کہ قاتل کی بہن۔"
اسلطان میر بلوچ نے کہا۔
" بہن میرے پاس آئے گی تو بھائی خود تڑپ کر آئے گا۔ پہلے پہن کو اذیت دونگا۔ اس کی تکلیف دیکھ کر بھائی خود میرے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔"
شاہ میر نے کہا۔
" سوچ ہے تمہاری، شاہنواز اپنے اکلوتے وارث کی قربانی ہرگز نہیں دے گا۔ بیٹی قربان کرنا آسان ہے اس کے لیے۔"
سلطان میر نے کہا۔
" سنا ہے اسے حویلی کی بیٹی کہا جاتا ہے۔باپ بھائی چچا مامو سب کی لاڈلی ہے۔اس کی تکلیف پر تڑپ اٹھیں گے جب میں ان کے پاس اس کی ویڈیو بھر کر بھیجوں گا تب۔"
شاہ میر نے پورے یقین سے کہا۔
" عورت ذات پر ظلم کرنا میں نے تمہیں نہیں سکھایا شاہ میر۔ مجھے شاہنواز کے ساری خاندان سے نفرت ہے۔مگر پھر بھی میں عورت ذات پر ظلم کے حق میں نہیں ہوں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں اس لڑکی کو اپنی حویلی میں برداشت نہیں کر سکتا جس کے بھائی نے میرے جگر کا ٹکڑا لہولہان کر ڈالا۔"
سلطان میر نے کہا۔ان سے بولا نہیں جا رہا تھا۔وہ بیٹھنے کی بھی پوزیشن میں نہیں تھے لیٹے ہوئے تھے۔
" میں جو کرنا چاہتا ہوں مجھے کرنے دے بابا سائیں۔میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔میرا مقصد ظفر کی بہن کو حاصل کرنا نہیں ہے۔مجھے ظفر چاہیے۔ وہ کہانی تو سنی ہوگی نہ آپ نے؟ کہ ایک جادوگر کی جان طوطے میں ہوتی ہے۔جادوگر کو مارنا ہے تو طوطے کا گلا دبا دو۔ بس وہی کرنے جا رہا ہوں میں۔ پچھلے آٹھ مہینوں سے سکون کی نیند نہیں سو سکا میں۔ "
شاہ میر کہتا ہوں ان کے کمرے سے نکل گیا۔
____________________
وہ بخار میں تپ رہی تھی۔
آمنہ بیگم اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی جا رہی تھی۔بائیس سالہ حریم بے یقینی سے چھت کو گھورے جا رہی تھی۔
" اماں بابا سائیں میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ اتنی نا انصافی؟ اتنا ظلم؟ کیا اسی لیے بچپن سے مجھے پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھا تھا کہ ایک دن مجھے مسل دیں؟"
حریم افسوس سے بول رہی تھی۔
" آنے دو تمہارے بابا سائیں کو۔میں بات کرتی ہوں ان سے۔ مجھے تو اب تک یقین نہیں آرہا ہے کہ واقعی تمہارے بابا سائیں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔"
حریم کی ماں آمنہ بیگ نے کہا۔
" اماں میں نے تو کل کبوتروں کو بھی آزاد کر دیا تھا کہ مجھے آزادی پسند ہے۔پھر مجھے قید کیوں مل رہی ہے؟"
حریم بولے جا رہی تھی کہ شاہنواز نواز اندر داخل ہوئے۔
" یہ کیا کر دیا آپ نے؟ میں پوچھ رہی ہوں یہ کیا کر دیا آپ نے؟ میری پھول جیسی بچی کیسے اس درندے شامیر کی حوالے کر سکتے ہیں آپ؟"
نہ بیگم نے شاہنواز کے شانے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔
" تو اور کیا کرتا؟ ظفر کو اس کے حوالے کر دیتا؟ کرکے وہ اسے گولیوں سے بھون دے؟ اپنا اکلوتا وارث اس کے حوالے کر دیتا؟"
شاہنواز نے روتے ہوئے کہا۔
" کو اندازہ ہے کہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ "
آمنہ بیگم نے کہا۔
" سب جانتا ہوں۔" شاہنواز بولے۔
" سب جانتے ہوئے بھی آپ نے مجھے کوئی میں دھکیل دیا بابا سائیں؟ صرف اس لئے کہ میں بیٹی تھی اور میری قربانی دینا آسان تھا؟ "
حریم سے بولا نہیں جا رہا تھا لیکن پھر بھی اس نے کہا۔
" ٹھیک ہے میری بچی تمہیں مجھ سے شکایت ہے نہ؟ ٹھیک ہے میں نہیں دیتا تمہاری قربانی۔میں ابھی گھر کے پاس جاتا ہوں اور ظفر کو اس کے حوالے کر دیتا ہوں۔تاکہ اس کی لاش شام کو میرے گھر آئے۔خون میں لت پت ہو کر۔"
کہتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گئے تو ایک دم سے حریم اٹھی اور ان کے پیچھے دوڑنے لگی۔
" نہیں بابا سائیں نہیں۔۔۔ میں ادا سائیں پر ایک خروںچ بھی برداشت نہیں کر سکتی ہوں۔۔۔ میرے ادا سائیں کو ان درندوں کے حوالے نہ کرنا۔۔۔ بابا سائیں رک جائیں۔ وہ لوگ مار دینگے میرے ادا سائیں کو۔ ۔۔۔ بابا سائیں میں ونی میں جانے کے لیے تیار ہوں۔"
حریم نے کہا تو شاہنواز کے قدم تھم گئے۔
انہوں نے مڑ کر اپنی بیٹی کو دیکھا۔
حریم ایک بار پھر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر کر گر پڑی۔
حویلی کی بیٹی ، ڈاکٹر حریم نواز ونی میں جانے کے لیے تیار تھی۔
_________________
چچا سائیں۔۔۔ کہاں چھپا بیٹھا ہے ظفر؟ ڈھونڈ کر لائیں اسے۔ میں اپنی منگیتر ہر گز شاہ میر کے حوالے نہیں کروں گا۔"
ولید بپھرا ہوا شیر بنا ہوا تھا۔
" فیصلہ ہو چکا ہے ولید" شاہنواز نے کہا۔
" نہیں مانتا میں اس فیصلے کو۔ اتنا بے غیرت نہیں ہوں میں۔ " ولید نے کہا۔
" بے غیرت تو میں بھی نہیں ہوں۔ اپنی بیٹی شامیر کے نکاح میں دے رہا ہوں بیچ نہیں رہا۔سردار ہے وہ اپنے علاقے کا۔"
شاہنواز نے کہا۔
" ونی میں دے رہے ہیں آپ اپنی بیٹی ونی میں۔۔۔ اپنے اکلوتے وارث کی جان بچانے کے لیے۔۔۔ " ولید نے غصے سے کہا۔
" میں اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ آمنہ تم حریم کو تیار کرو۔۔۔ آج شام اس کا نکاح ہے شاہ میر سلطان کے ساتھ۔"
شاہنواز اپنی بیگم آمنہ نہ حکم صادر کرتی ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
____________________
"حریم شاہ نواز ، کیا آپ کو شاہ میر سلطان اپنے نکاح میں قبول ہے؟"
نکاح خواں کے الفاظ حریم کی سماعتوں سے ٹکرائیے۔
" قبول ہے"
حریم اپنی آواز کسی کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
" شاہ میر سلطان ، کیا آپ کو حریم شاہ نواز اپنے نکاح میں قبول ہے؟"
شاہ میر سخت تاثرات لیے بیٹھا تھا جب پوچھا گیا۔
" قبول ہے۔"
شاہ میر کی آواز پردے کے پیچھے بیٹھی ہوئی حریم کو سنائی دی۔ اس کا دل پتے کی مانند لرزنے لگا۔
باریک سی جالی سے اب وہ اُس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسکا بخت تھا۔
اگلے ہی پل شاہ میر ایک جھٹکے سے اٹھا۔
" میرے پاس وقت نہیں۔ جلدی لڑکی میرے حوالے کر دو۔"
شاہ میر نے شاہنواز کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور آگے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔
حویلی کی خواتین میں زار و قطار رونا شروع کر دیا۔جیسے ایک کہرام برپا ہوگیا ہو۔
آمنہ بیگم غش کھا کر گر پڑیں۔
شاہنواز نے اپنا اپنا سینہ تھام لیا جہاں انہیں درد شروع ہو چکا تھا۔
اندر بیٹھے ہوئے ولید نے ویلی کی چیزوں کی توڑ پھوڑ شروع کردی تھی۔
شاہ میر نے گردن گھما کر یہ منظر دیکھا۔
اس کے دل کو عجیب سا سکون مل رہا تھا ان لوگوں کی بربادی دیکھ کر۔۔۔
(" میں نے اپنے بھائی کی مردہ مردہ لاش اٹھائی ہے۔ اب تم لوگ اس زندہ لاش کو کاندھا دو۔" )
شاہ میر نے حریم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کہ اب تک گھونگھٹ میں تھی۔
جاری ہے۔۔۔
Note : likes and ache ache reviews batayenge ke novel Kitna Zbrdast and jldi jldi episodes dene chahiye.. Agar waqai novel time to time chahiye to likes ate rehne chahiye.. ❤️
For more interesting novels... Jure rahiye UNP ke sath 💓💕

Comments
Post a Comment