انکار سے اقرار تک قسط نمبر 1

#انکار_سے_اقرار_تک


#By_Laiba_Aslam

قسط نمبر 1

اُٹھ جاو بیٹا کتنی بار منع کیا ہے کہ رات دیر تک مت جاگاکرو۔وہ کمرے کی حالت درست کرتی سامنے پڑے دنیا سے بے خبر وجود سے مخاطب تھی۔

ابھی کل شام کو ہی تو ملازمہ سے کہہ کے کمرہ صاف کروایا تھا مجال ہے جو ایک چیز بھی اپنی جگہ پر ملیں سواۂے ایک چیز کے پتا نہیں کیوں اسے اتنا سنبھال کے کیوں رکھتی ہے یہ لڑکی۔

اب اٹھ بھی جاو مہارانی آج یونی جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا

وہ جو تکیے میں سر دۂے سونے کا ناٹک کر رہی تھی یونی کا سنتے ہی اچھل کر بیڈ سے اٹھی۔

ہاۂے اللہ! مجھے تو یاد ہی نہیں تھا آج میرا بہت امپورٹنٹ لیکچر ہے۔جانان ڈرامائ انداز میں سر پیٹ کر رہ گۂی۔

اب یہ اداکاری ختم ہوگئ ہو تو جلدی فریش ہو کر نیچے ناشتے پر آؤ۔رفعت بیگم جانان کو کہتی بنا جواب کا انتظار کیے دروازہ بند کرکے چلی گئ۔

جی امی اچھا۔جانان نے پیچھے سے ہونک لگائ

🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼

دیکھو شایان بیٹا چھوڑ دو اپنی یہ ضد۔حنان شاہ ہمیشہ کی طرح اپنے بیٹے کو قاۂل کرنے کی کوشش کر رہے تھے

نو نیور ڈیڈ!یہ اپکی بھول ہے کہ میں اب کبھی پاکستان واپس آؤ گا۔

اپنی ماں کا ہی خیال کر لو وہ تمہیں یاد کرکے کتنا روتی ہے تمہیں دیکھے ہوۂے بھی اب دس سال ہو گۂے ہیں رحم کرو ہمارے حال پہ۔حنان صاحب نے اسے جذباتی طور پر گھیرا ڈالا 

 ٹھیک ہے ڈیڈ میں واپس پاکستان آؤ گا۔۔شایان نے اپنی ماں کو سوچتے ہوۂے حامی بھر لی۔آخر کو اسے بھی اپنی فیملی بہت یاد آرہی تھی۔

تم سچ کہہ رہے ہو میرے لعل۔انھوں نے تصدیق کرنا چاہی 

ہاں ڈید لیکن میری ایک شرط ہے

کیسی شرط میں تمہاری ہر شرط ماننے کیلیۂے تیار ہوں

آپ اپنی اس سو کولڈ بھانجی سے میرا رشتہ ختم کر دیں۔اس نے لاپرواہی سے کہا

تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ہوش میں تو ہو کیا کہہ رہے ہو۔ان آنکھوں میں تیش اتر آۂی 

ٹھیک ہے ڈیڈ پھر میں بھی کبھی واپس نہیں آؤنگا۔اس نے جواب سنے بنا جلدی سے فون بند کرکے بیڈ پر پٹک دیا۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

یار جانان تم ہمیشہ کی طرح آج بھی لیٹ ہو ۔فاۂزہ نے کہا

اچھا اب چلے ۔جانان فائزہ کا غصہ نظر انداز کرتے ہوے بولی

 جانان فائزہ اور مہرماہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا ہی رہی تھی کہ جانان آگے سے آتے شخص سے ٹکرا گئ

کیا ہے دیکھ کے نہیں چل سکتے۔وہ جو ہونک بنا اسے سنبھلتے دیکھ رہا تھا اس کے پکارنے پر ہوش میں آیا

میڈم ٹکرائ آپ ہے آپ دیکھ کے نہیں چل رہی تھی

تیرا کیا مطلب ہے میں اندھی ہوں ۔لوفر کہیں کا۔جانان ہاتھ نچا نچا کے کہہ رہی تھی

اے یو حد میں رہو لوفر کسے کہا۔شانِ عالم اسے انگلی سے وارن کرتے ہوئے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا

جانان چلو کیوں اللہ واسطے کا بیر ڈال رہی ہے۔مہرماہ جانان کو بازو سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے دھیرے سے اس سے مخاطب ہوئ۔

💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

نوٹ۔

تو گائز کیسی لگی آپکو میرے ناول کی فرسٹ ایپی آپ کے ریویو کے مطابق ہی میں اندازہ لگاؤ گی کہ مجھے یہ ناول جاری رکھنا چاہیے یا نہیں کیا رائے ہیں آپکی۔ 

Comments