بےوفا - سیزن ٹو - قسط نمبر 2

ناول: بےوفا (سیزن ٹو)

رائٹر: سدرہ شیخ

قسط نمبر: 2۔



"رابیعہ تمہارا غصہ جائز ہے پر اب اس خاندان کے مردوں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے"

"کیوں نہیں ہے۔۔؟؟ وقار کے پاس تو تھا واپسی کا راستہ زمرد۔۔۔تو آپ کے پاس کیوں نہیں۔۔؟"

"بھابھی۔۔۔"

پاس بیٹھی دیورانی نے جلدی سے رابیعہ بیگم کو چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔

صرف زمرد صاحب ہی نہیں داد جی کو بھی انکی آج اس طرح کہی گئی بات نے سکتے میں مبتلا کردیا تھا۔۔اور پاس کھڑے زمرد صاحب کے دو بھائی وہ تو ایک ہی جگہ کھڑے رہ گئے تھے یہ نام سن کر۔۔۔

وہ نام جو کوئی نہیں لیتا تھا ڈرتے تھے سب داد جی سے انکے غصے سے۔۔۔

۔

آج پہلی بار کسی کی اتنی ہمت ہوئی تھی یہ نام لینے کی۔۔۔

۔

آخر کیا تھا اس نام میں۔۔؟؟ 

کون تھا وقار نامی شخص۔۔۔؟؟

کیوں اس نام سے سب کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور محبت بھی۔۔۔

۔

"یا اللہ یہ میں نے کیا کہہ دیا۔۔"

داد جی کی بیک کو دیکھتے ہوئے رابیعہ اٹھ گئیں تھیں وہ داد جی کی طرف بڑھی تھیں پر بے حد غصے سے زمرد صاحب نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا

۔

"بھابھی رابیعہ بیگم کو اپنے ساتھ لے جائیں زیادہ ہی تھک گئیں ہیں آرام کریں گی تو عقل ٹھکانے آجائے گی۔۔"

طنزیہ انداز میں کہی گئی بات نے انکی بیوی کی آنکھوں کو گیلا کردیا تھا انکے آنسوؤں سے۔۔۔

پر اب زمرد صاحب کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔۔

۔

"بہو آج میں معاف کر رہا ہوں آئندہ نہیں کروں گا۔۔جس کا نام تم نے لیا وہ مرگیا ہوا ہے اسے مرا ہی رہنے دو۔۔"

داد جی نے جتنے سخت لہجے میں کہا تھا رابیعہ بیگم ہاں میں سر ہلا کر وہاں سے چلیں گئیں تھیں

انہیں پتا تھا یہ سب مرد ظالم ہیں وہ بلاج سے نہیں ملنے دیں گے انہیں اب۔۔۔

۔

ایک بار پھر اپنے معاملات اللہ کے حوالے کر دئیے تھے انہوں نے۔۔۔

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"مدیحہ کو بلاؤ۔۔۔بلاج کو جب ہوش آئے گا سب اسے یہیں کہیں گے کہ مدیحہ کی مدد سے بلاج کو وہاں سے لایا گیا اور مدیحہ کو کچھ زخم بھی آئے ہیں۔۔

بلاج کو کسی اور کا نام پتا بھی نہیں چلنا چاہیے

ہمارے دشمنوں کو ہم خود دیکھ لیں گے۔۔"

"پر بلاج وہاں کیوں گیا داد جی وہ جزیرہ بھی بلاج کے نام تھا یہ تو بلاج نہیں نہیں بتایا کبھی۔۔زمرد بھائی آپ کو پتا تھا۔۔؟"

چھوٹے بھائی کے سوال پر زمرد صاحب نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔

"سر میں کچھ کہنا چاہتا ہوں"

"تم لوگ جاؤ اور جیسا کہا ویسا کرو۔۔۔اب وقت آگیا ہے بلاج کو پشمینہ شیخ سے الگ کیا جائے۔۔"

"پر کیوں بابا سائیں۔۔؟؟"

"یہ تم پوچھ رہے ہوزمرد۔۔؟؟ بلاج کی زندگی میں جب سے وہ لڑکی آئی ہے سب کچھ تو خراب ہوگیا۔۔

پہلے بلاج کا مدیحہ کے ساتھ رشتہ پھر مہتاب کا بلاج کے ساتھ اور اب مہتاب کا ایکسیڈنٹ۔۔۔

بلاج کی یہ حالت۔۔۔اور تو اور ربیل۔۔

خون تو وہ دشمن کا ہی ہے نا۔۔؟؟"

۔

داد جی کے تینوں بیٹے چپ ہوگئے تھے۔۔۔

"پر بلاج مان جائے گا بابا۔۔؟؟"

وہاج صاحب نے فکرمندی سے پوچھا تھا

"وہ کیسے نہیں مانے گا۔۔؟ ارے دشمن کی بیٹی کو اتنی اذیت ہی بلاج نے ہمارے خاندان کا بدلہ لینے کے لیے دی تھی بھول گئے ہو۔۔؟؟"

۔

"داد جی سب باتیں ٹھیک ہیں پر وجیح شاہ کی کمپنی میں اسکا کوئی نیا وارث آگیا ہے۔۔

کچھ تو ہو رہا ہے وہاں جو ابھی تک سامنے نہیں آیا ہمارے۔۔۔"

"ہاہاہا بلاج کو ٹھیک ہوجانے دو وہ میرا شیر ہے۔۔۔وہ ایک دھاڑ سے دشمنوں کو ڈھیڑ کردے گا دیکھ لینا۔۔۔"

وہ آئی سی یو کے باہر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔چہرے پر غرور تھا پر انکی آنکھوں میں نرمی آگئی تھی بلاج کو شیشے کے اس پار دیکھ کر۔۔

۔

"دشمن کی بیٹی کو بھی نکال باہر کرو بلاج اب۔۔۔"

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"سر پشمینہ۔۔۔میرا مطلب ہے بریرہ شاہ نے بلاج سر کی جان بچائی وہ تو یہاں تک لیکر آئی۔۔"

"شش آہستہ بولو۔۔۔ابھی تم چپ رہو زمرد یہیں آرہا میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔"

داد جی جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھ گئے تھے۔۔

"بابا سائیں چلیں بلاج کے روم میں۔۔۔اسے ہوش آگیا ہے۔۔"

داد جی کا ہاتھ پکڑ کر زمرد صاحب دوسری جانب لے گئے تھے انہیں۔۔۔۔

۔

۔

"اس دشمن کی بیٹی نے سچ میں بہت بڑی چال کھیلی بلاج اگر مدیحہ نا ہمیں وہاں لے کر جاتی تو تمہیں تو وہ مار چکی ہوتی اسی جگہ اسکا نشانہ چوک گیا اور گولی تمہارے دل پر لگنے کے بجائے کندھے پر لگی"

داد جی کی باتیں سن کر بلاج حمدانی اس ہسپتال کی کھڑکی کی طرف منہ موڑ چکا تھا

"میں تو جان گیا تھا وہ بےوفا ہے اس لیے جان پر لے گیا اسکی بےوفائی۔۔"

اس کی سرگوشی شاید کوئی نہیں سن پایا تھا۔۔

ایک گارڈ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا داد جی کو

"بلاج اب کوئی لحاظ نہیں کرنا۔۔اب دشمن کی بیٹی ہو یا کوئی بھی اب صفحہ ہستی سے مٹا دینا

ایک بار پھر عورتوں کا استعمال کیا گیا ہے۔۔"

"داد جی کچھ وقت کے لیے میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔"

"ہمم۔۔"داد جی جیسے ہی بلاج کے ماتھے پر بوسہ دینے کے لیے سر کو جھکایا تھا بلاج کی بند پلکوں سے گرتا آنسو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔۔۔وہ اتنا شوکڈ تھے کہ بنا بوسہ دئیے روم سے باہر چلے گئے تھے۔۔

۔

"آپ نے جھوٹ کیوں بولا داد جی۔۔؟؟ اندر بلاج زندہ ہے تو اس دشمن کی بیٹی کی وجہ سے۔۔

یہاں جب ہم بلاج کو لائے تھے بلاج سے زیادہ زخم تو اس بیچاری کے جسم پر تھے

چوبیس گھنٹے اس جنگل میں دشمنوں کی گولیوں کے درمیان وہ تھی جو بلاج کو بچاتی رہی ۔۔

مدیحہ تو چوبیس گھنٹے کے بعد بھی اپنے ہسبنڈ کو نا دیکھنے آسکی۔۔۔"

داد جی نے اس سیکیورٹی گارڈ کے کالر کو پکڑ لیا تھا 

"اگر ان باتوں کا کبھی زندگی میں بلاج کو پتا چلا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔ نوکر ہو ہمارے نوکر بن کر رہو۔۔"

"آپ جو مرضی کرلیں ان دونوں میں مجھے کون نظر آیا ہے جانتے ہیں۔۔؟

داد کی کی نظریں اٹھی تھیں جن میں ماضی تھا جیسے وہ سمجھ گئے تھے گارڈ کن کا نام لے گا۔۔"

"ان میں مجھے دو پیار کرنے والے نظر آئے ہیں داد جی ان میں مجھے روحی بیٹی وقار بیٹا نظر آیا ہے میں نے بغاوت دیکھ لی ہے بلاج بہت جلدی اپنے باپ جیسا بن جائے گا۔۔۔وقار جیسا بن جائے گا ایک اور تباہی لائے گی یہ بغاوت داد جی۔۔۔آپ لوگ کب تک چھپائیں گے۔۔؟"

۔

باہر داد جی کو سینئر ہیڈ گارڈ نے شاکڈ کردیا تھا تو اندر داد جی کی باتوں نے بلاج حمدانی کو۔۔

۔

"تم سوچتی ہو تم جیت جاؤ گی بریرہ۔۔؟ میں ہارنے والے نہیں ہوں۔۔

تم اپنی محبت میں نا جیت سکی تو میری نفرت میں کیسے جیت جاؤ گی،،؟؟

تمہاری بھول ہے اگر تم میرے خاندان میرے داد جی کو نیچا دیکھا کر بدلہ لے لو گی۔۔

مجھے مارنے کی ناکام کوشش نے تمہیں میری نظروں سے بھی نیچے گرا دیا۔۔۔

اچھا کررہے تھے تمہارا بابا سائیں جو تمہیں مارنا چاہتے تھے۔۔اچھا ہوا جو کوئی نشانی نہیں رہی

دشمن کا خون کیسے اپنے بچے کی رگوں میں برداشت کرسکتا تھا بلاج حمدانی۔۔؟؟

تمہیں میں اب موت سے بدتر زندگی دوں گا۔۔سب کچھ چھین لوں گا بریرہ شاہ۔

پہلے دشمنی تمہاری فیملی سے تھی تو تمہیں کسی قابل نہیں چھوڑا تھا

اب جب تم سے حساب کرنے ہیں تو سوچو کیا بنے گا تمہارا ۔۔۔"

۔

۔

وہ اپنے اگلے قدموں سے خود بھی انجان تھا۔۔یہی نصیب تھا شاید اس بیچاری کا جو اسے اپنی جان پر کھیل کر یہاں لے آئی اور یہ اس طرح سے اسے ہی پھر سے برباد کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا۔۔

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"بابا بس ایک بار ملنا چاہتی ہوں بریرہ ماسی سے۔۔پلیز۔۔۔"

اگلی صبح بہرام پری کو ڈینیل کے اپارٹمنٹ لے آیا تھا سونم نے جیسے ہی بریرہ کی زخمی حالت کا بتایا تھا یہ وہی جانتاتھا رات اس نے کیسے اس اپارٹمنٹ کے باہر اپنی گاڑی میں گزاری تھی۔۔

۔

"پری بیٹا ابھی ماسی کی طبیعت سہی نہیں ابھی انہیں ہوش نہیں آئے گا۔۔"

سونم نے پری کو اپنی گود میں بٹھا لیا تھا۔۔

"پر میں ان کو ایک کس دوں گی وہ جاگ جائیں گی جیسے وہ موویز میں پرنسز جاگتی ہے۔۔"

ڈینیل کے منہ سے پانی باہر نکل آیا تھا پری کی بات سن کر۔۔

"پری۔۔۔یہ سب کس نے کہا۔۔"

بہرام شرمندہ ہوگیا تھا 

"کسی نے نہیں کہا میں نے دیکھا بابا جب پرنسز آنکھیں نہیں کھولتی تو پرنس اسے۔۔۔"

"بس اننف پری۔۔۔"

"ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"ہاہاہاہاہاہا سونم مجھے تو لگا تھا یہیں کے بچے بولڈ ہوتے ہیں پر بہرام شاہ۔۔۔"

"ہاہاہاہا شٹ اپ ڈینیل۔۔۔ہاہاہا۔۔۔بہرام تم شرماتے ہوئے کتنے کیوٹ لگتے ہو۔۔۔"

سونم نے جیسے ہی بہرام کی سرخ ہوتے گال پر ہاتھ رکھا تھا ڈینیل اپنا پیٹ پکڑے ہنسنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔

۔

"اففو۔۔۔آپ لوگ ہنسو۔۔میں ماسی کے پاس جا رہی۔۔۔"

اور پری بھاگتے ہوئے اوپر بریرہ کے روم میں چلی گئی تھی۔۔۔

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"آنکھیں نہیں کھولنی۔۔۔چشمش۔۔"

"بلاج۔۔۔اب تو آنکھیں کھولوں گی تب بھی دیکھ نہیں پاؤں گی تم نے ہاتھ کب سے رکھا ہوا۔۔۔"

"کیونکہ مجھے پتا ہے تم چیٹ کرو گی۔۔۔"

سیریسلی۔۔؟؟ بلاج حمدانی تم نا باز آجاؤ میں۔۔"

اور بلاج نے ہاتھ ہٹا دیا تھا۔۔بریرہ کی آنکھوں کے سامنے ابھی بھی اندھیرا تھا سوائے ان جلتی موم بتیوں کے۔۔

وہ جس دائرے میں کھڑی تھی ہر طرف موم بتیاں جگمگا رہیں تھیں۔۔۔

"بلاج کہیں تم مجھے پرپوز۔۔"

اور جب اس نے پیچھے دیکھا تو بلاج اپنی نیز پر بیٹھ گیا تھا اور ایک ڈائمنڈ رنگ نکال کر اس نے بریرہ کے سامنے کی تھی۔۔

۔

"او مائی گوڈ بلاج۔۔۔۔واااووو بلاج حمدانی اپنی نیز پر۔۔۔۔"

بریرہ نے اپنی گلاسیز واپس پہن لی تھی اور بچوں کی طرح جمپ مارنا شروع کردی تھی۔۔۔

"بلاج حمدانی۔۔۔"

"افففف لڑکی۔۔۔ول یو میری مئ۔۔۔؟؟"

"او مائی اللہ۔۔۔۔میرا کرش مجھ شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔"

بریرہ نے ڈرامائی انداز میں ہاتھ اپنے دل پر رکھا تھا

بلاج کھل کر مسکرا رہا تھا بریرہ کی بچوں جیسی شرارتیں دیکھ کر

"بریرہ۔۔اب رنگ ایکسیپٹ کر رہی ہو یا اٹھ جاؤں۔۔۔؟؟"

"ایسے پھیکا سا پرپوز نہیں بلاج کچھ رومینٹک سا کرو نا۔۔۔"

بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا وہ جیسے ہی بلاج کے لیول پر بیٹھی تھی بلاج نے ایک ہاتھ سے اسکی گلاسز اتار دئیے تھے

"بلاج۔۔۔"

"شش،،،مس بریرہ شاہ۔۔۔میں رومینٹک مین نہیں ہوں مافیا مین ہوں۔۔۔"

بریرہ کی آنکھوں میں مایوسی چھا گئی تھی اس نے جیسے ہی ہاتھ چھڑانے کی کوش کی بلاج نے اسے اور اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔اسکے اور بلاج کے چہروں کے درمیان فاصلہ بس کچھ انچ کا رہ گیا تھا

"بریرہ شاہ تمہاری ان معصوم آنکھوں کو دیکھ کر دل کرتا ہے میں اس طرح کا رومینٹک سا عاشق بن جاؤں جو ہر روز تمہیں گلاب کا پھول دے کر گڈمارننگ وش کرے

تمہارا یہ خوبصورت چہرہ مجھے وہ ہر کام کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو میں نہیں کرنا چاہتا شادی سے پہلے تو بلکل نہیں۔۔۔"

بلاج نے آنکھ ماری تھی اور اپنی اوڑھ کھینچا تھا اسے۔۔۔

"میں مافیا مین۔۔۔آج اپنے گھٹنوں میں بیٹھا ہوں۔۔آج سے پہلے نہیں بیٹھا تھا۔۔

میرے لیے تو یہی بہت زیادہ ہی رومینٹک ہونا۔۔

ہاں اگر تم چاہتی ہو کہ پرپوز کرتے ہوئے میں ایک رومینٹک سی کس۔۔۔۔"

"بےشرم،،،،:

بریرہ نے بلاج کے ہونٹوں پر اپنی انگلیاں رکھ دیں تھی جس پر بلاج نے جیسے ہی بوسہ لیا تھا بریرہ نے شرما کر سر جھکا لیا تھا۔۔۔

۔

"بلاج۔۔۔"

"اب رومینٹک ہونے بھی نہیں دے رہی مجھے تم۔۔۔کیا کروں بریرہ۔۔؟؟

شادی کرتے ہیں اب خود پر قابو نہیں رہا میرا۔۔۔"

بلاج نے سرگوشی کی تھی اسکا چہرہ اور قریب ہوگیا تھا۔۔۔

"پر بلاج "

"میری محبت میں اتنا دور چل آئی ہو میرے ساتھ۔۔۔آگے بھی مجھ پر یقین رکھو تمہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دے گا تمہارا بلاج حمدانی۔۔۔۔"

۔

بلاج نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔

۔

۔

بلاج۔۔۔۔

۔

۔

"ماما۔۔۔۔"

۔

۔

دو چھوٹے چھوٹے ہاتھ بریرہ کی آنکھیں پر آرہے تھے جیسے روشنی سے اسے بچا رہے ہوں۔۔۔۔

"ماما۔۔۔۔بریرہ ماسی آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟؟"

"ایم سوری ڈریگز لینے سے ان کا مس کیریج ہوگیا ہے۔۔۔"

"آہ۔۔۔۔۔۔" 

بریرہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اور پری ڈر کر پیچھے ہوگئی تھی ایک دم سے

بریرہ کے ماتھے پر پٹی بندھی تھی لفٹ پاؤں پر اور سیدھے ہاتھ پر بندھی تھی پر پری کو بریرہ کی غصے سے لال ہوتی آنکھوں نے ڈرا دیا تھا

بریرہ ما۔۔۔۔"

"تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ کس نے اجازت دی میرے کمرے میں آنے کی دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔"

"پر آپ ما۔۔۔۔"

"جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔"

بریرہ بیڈ سے جیسے ہی اٹھی تھی پری روتے ہوئے کمرے سے بھاگ گئی تھی۔۔۔

"پری میری بچی کیا ہوا۔۔۔۔"

"پری نے بہرام کی ٹانگوں میں اپنا منہ چھپا لیا تھا جیسے ہی بہرام کھڑا ہوا تھا اسکی رونے کی آواز سن کر۔۔۔۔

بریرہ دروازہ بند کرنے لگی تھی اپنے کمرے کا جب اس نے پری کا سسکیاں لیتا لہجہ سنا۔۔۔

"بابا وہ بھی مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔۔۔ماں کی طرح۔۔۔ندا پھوپھو کی طرح۔۔۔

پری سے کوئی پیار نہیں کرتا پری سچ میں منحوس ہے بابا جھوٹ بولتے ہیں آپ۔۔۔" 

"پری۔۔." 

سونم کو روک دیا تھا ڈینیل نے جب اس نے بریرہ کو سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے دیکھا

"پری۔۔۔۔"

بریرہ کی آواز میں ایک ممتا تھی ایک شفقت تھی جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی اسے پری کے لیے۔۔۔۔

"پری کو واپس لے چلیں بابا۔۔۔"

بریرہ نے زخمی حالت میں بھی اپنے گھٹنوں پر بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

"پری اگر تم واپس چلی جاؤ گی تو مجھے ماما کون بلائے گا۔۔۔۔"

بہرام کی آنکھیں بریرہ سے ٹکرائی تھیں جو پہلے سے ہی بہرام کو دیکھ رہیں تھیں جیسے اجازت مانگ رہی ہوں

"آپ نے سن لیا تھا جب میں نے ماما کہا تھا آپ کو۔۔۔۔"

پری نے اپنا فیس باہر نکال کر پوچھا پر بریرہ نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا

"ہاں میری جان میں نے سن لیا تھا۔۔۔"

"اب آپ ناراض نہیں اس کا مطلب میں ماما کہہ سکتی ہوں آپ کو۔۔۔؟؟"

بریرہ کے کندھے سے پری نے سر اٹھانے کی کوشش کی پر بریرہ نے اسے پھر سے اپنے گلے سے لگا لیا تھا جیسے اسے سکون مل رہا تھا جیسے اسکے زخموں پر مرہم کا کام کر رہا تھا پری کو اپنی آغوش میں لینا۔۔۔۔

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

بلاج۔۔۔۔تھنک گوڈ تم ٹھیک ہو تمہیں اس جنگل میں دیکھ کر تو ہم سب پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔"

بلاج کا ہاتھ پکڑ کر مدیحہ اسکے پاس بیٹھی تھی

"تم نے میری جان بچائی اپنی جان پر کھیل کر۔۔۔تھینک یوو۔۔۔"

بلاج نے پوری کوشش کی تھی اسکے چہرے پر مسکان آجائے کسی طرح

پر وہ مسکان کہیں نہیں آرہی تھی۔۔۔

"میں پریشان ہوگئی تھی بلاج تم نے سوچ بھی کیسے لیا اس طرح سے غائب ہوگئے تھے تم سوچا ہو تمہارے بعد میرا کیا ہوتا ہمارے بچے کا کیا ہوتا۔۔۔؟؟؟"

مدیحہ نے اس کا ہاتھ جیسے ہی اپنے پیٹ پر رکھا تھا بلاج نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔

"اگر میں تم سے کچھ اور وقت مانگوں۔۔۔۔؟؟ صرف تھوڑا سا وقت مدیحہ اسکے بعدہم کبھی الگ نہیں ہوں گے۔۔۔نہ ہمارا بچہ۔۔۔۔"

"بلاج ایک بار پہلے بھی تم نے ایسے ہی وقت لیا تھا دشمن کو برباد کرنے میں۔۔۔اور آج پھر سے وقت مانگ رہے ہو۔۔۔؟"

مدیحہ کی گرفت مظبوط ہوئی تھی بلاج کے ہاتھوں پر

"اب یہ کھیل ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے مدیحہ۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔"

وہ پھر سے آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔۔۔

۔

"بلاج بھائی یہ کچھ دیکھانا چاہتا ہوں آپ کو۔۔۔"

"مدیحہ کو گھر لے جاؤ"

بلاج نے اپنے کزن سے موبائل پکڑ لیا تھا

"مجھے کہیں نہیں جانا بلاج تمہارے پاس رہنا ہے۔۔۔"

مدیحہ کی آنکھوں میں پریشانی اور بےپناہ محبت دیکھ کر بلاج نے سرد آہ بھری تھی

"میرا وعدہ ہے میری جان بس کچھ وقت چاہیے مجھے۔۔پھر ہم دونوں کو کوئی جدا نہیں کرسکے گا۔۔۔۔"

مدیحہ جیسے ہی بلاج کی جانب بڑھی تھی پاس کھڑا کزن کھانسی کرنا شروع ہوگیا تھا

"بھائی بھابھی پلیز۔۔۔۔"

"ہاہاہاہاہاہا تم مدیحہ کو گھر لے جاؤ۔۔۔۔۔"

کچھ اور دیر کے بعد وہ دونوں بلاج کے ہسپتال کے کمرے سے باہر آگئے تھے۔۔۔

۔

"کام ہوگیا ہے وہ موبائل میں نے بلاج بھائی کو دیدیا ہے۔۔"

اس کزن نے جلدی سے ایک میسج کیا تھا

اور مدیحہ نے ریان کو ملنے کے لیے میسج کردیا تھا۔۔۔۔

۔

۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"پکا ناراض نہیں ہیں ماسی۔۔۔۔؟؟"

"اگر مجھے ماما نہیں کہو گی تو ناراض ہو جاؤں گی چندا۔۔۔"

بریرہ نے اپنے پاس بٹھا لیا تھا پری کو۔۔۔

"ماما۔۔۔۔"

"پری۔۔۔۔۔ ایم سو سوری میں چلائی آپ پر۔۔۔۔"

پری کو وہ جیسے ہی اپنی گود میں بٹھانے لگی تھی سونم نے اسے روک دیا تھا

"تمہیں چوٹ آئی ہوئی ہے بریرہ پلیز ابھی اپنے جسم کو سٹریس نہیں دو۔۔۔۔"

"ہممم۔۔۔۔"

پری کو گلے سے لگائے بریرہ نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی۔۔۔۔

۔

"آپ آرام کریں ماما۔۔۔۔میں لوری سناؤں آپ کو۔۔۔؟؟؟"

اب کے بہرام اٹھ کر وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔ یہ سب اسکے لیے نیا تھا پری کی محبت بریرہ کے لیے بلکل نئی تھی۔۔

وہ جذباتی ہوگیا تھا بہت زیادہ۔۔۔

۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

"کچھ دن بعد۔۔۔"

۔

وہاں بلاج حمدانی کے زخموں کو بھرا جا رہا تھا تو یہاں بریرہ شاہ کو ایک پل کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑتی تھی نہ ہی پری اور نہ ہی سونم۔۔

ان دنوں ارسل شاہ بھی بریرہ سے ملنے آئے تھے پر بریرہ نے ملنے سے انکار کردیا تھا۔۔

۔

کتنے دن سے وہ ایسے ہی بند پڑی ہوئی تھی اس اپارٹمنٹ اور اپنے کمرے میں۔۔

وہ پری کی باتوں پر ہنستی بھی تھی تو لگتا تھا جیسے ابھی رو دے گی۔۔اور سونم یہ سب نوٹ کر رہی تھی۔۔

وہ جانتی تھی کچھ ایسا ہوا ہے جس نے بریرہ کو کمزور کردیا ہے بہت زیادہ پر ایسا کیا تھا اسے معلوم کرنا تھا اب۔۔۔

۔

۔

"بریرہ آج تمہارے سر کی پٹی بھی کھل جائے گی ڈاکٹر سے پوچھ لیا تھا آج کہیں باہر چلیں گے کم آن یہ کپرے چینج کرو۔۔"

وہ اندھیرے سے بھرے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔۔۔جب سونم نے کمرے میں آتے ہی شور ڈالنا شروع کردیا تھا۔۔

"سونم پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو ابھی نہیں۔۔۔"

ہاتھ کی مٹھیاں بند کرلی تھی غصے سے اس نے۔۔

"ابھی نہیں۔۔؟ تو کب۔۔؟؟ بتاؤ گی کیا ہوا ہے۔؟؟ کس کا سوگ منا رہی ہوں تم۔۔؟ جو خود کو اس کمرے میں بند کیا ہوا ہے۔؟ کیا روگ لگ گیا ہے تمہیں بریرہ بتاؤ کس چیز کا سوگ ہے یہ۔۔؟؟"

سونم نے اسکے کپڑے بیڈ پر پھینک کر پوچھا تھا۔۔

"میرے بچے کا سوگ ہے یہ۔۔۔جو مرگیا ہے۔۔اسکی موت کا سوگ منا رہی ہوں۔۔۔تم نے ہی تو کہا تھا۔۔روو لوو بریرہ درد کم ہوجائے گا بوجھ اتر جائے گا۔۔

تو دیکھو اس بار بریرہ شاہ رو رہی ہے۔۔۔

پر میرا درد ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔

اس بار بھی وہ کامیاب ہوگیا نہ میرے بچے کو مارنے میں سونم۔۔۔اس بار میں اسے چاہ کر بھی کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی میں اپنے بچے کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کر چکی تھی سونم اور وہ ظالم۔۔"

وہ اپنے گھٹنوں پر گر گئی تھی روتے ہوئے۔۔۔اسکی چیخیں باہر تک جارہیں تھی پر ڈینیل میں ہمت نہیں تھی اندر آنے کی۔۔۔

"یا اللہ بریرہ۔۔۔پھر سے۔۔۔خدایا۔۔۔ابھی تو تمہیں موقع بھی نہیں ملا تھا اپنے بچے کے بارے میں پوری طرح سوچنے کا۔۔۔

بریرہ کیسے ہوا یہ سب۔۔؟ وہ تو باپ تھا کیا اتنا ظالم ہوگیا وہ۔۔؟؟"

سونم بریرہ کے پاس بیٹھی تھی جو ہاتھوں میں سر چھپائے رو رہی تھی۔۔

۔

اب وہ بریرہ شاہ نہیں رو رہی تھی اب وہ ماں رو رہی تھی۔۔۔

"سونم کیا اتنے بدنصیب ہیں ہمارے بچے کے جنہیں انکے ماں باپ دنیا میں لانے سے پہلے ہی کھو دیتے ہیں۔۔؟؟"

۔

بریرہ کی کہی اپنی بات نے اسے رعح کو زخمی کردیا تھا جب اسے سمجھ آئی تھی اس نے کیا کہا تھا۔۔

"بریرہ دو خاندانوں کی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا تم دونوں نے اپنے دونوں بچوں کو۔۔

میری دعا ہے دشمنی اب کبھی دوستی میں نا بدلے تم دونوں کی ورنہ آنکھ نہیں ملا پاؤ گے ایک دوسرے کے ساتھ کبھی۔۔۔"

۔

۔

۔

۔

۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔ 

Comments