ناول ۔صراط مستقیم
تحریر. ۔ شمائلہ عباس
قسط نمبر. 1
برسات کا موسم تھا۔۔اور آج بھی صبح سے کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔۔
ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔۔وہ اپنے مخصوص حلیے اور مخصوص انداز میں سامنے پڑی میز پر کہنیاں ٹکاۓ دونوں ہاتھوں کو آپس میں پیوست کیے ، ٹھوڑی کے نیچے رکھے سامنے گلاس ڈور سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
اسکی کالی گہری آنکھیں حجاب سے جھانکتی ایک ہی نقطے پر جمی ہوئی تھیں جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہے۔۔
سامنے پڑے چاۓ کے کپ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔۔
اسکی توجہ پاس پڑے فون کی بجتی گھنٹی نے اپنی طرف کی۔۔وہ چونک کر سیدھی ہوئی شاید وہ بھول چکی تھی کہ اسوقت وہ کہاں بیٹھی ہے۔۔
فون مسلسل بج رہا تھا پھر اس نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا
یس سر۔۔
وہ اپنے باس سے مخاطب تھی۔
come in my office
دوسری طرف سے حکم صادر کر کے فون رکھ دیا گیا۔۔
اس نے بھی ریسیور کریڈل پر رکھا ،اپنا موبائل ہاتھ میں
لیے وہ کیبن سے باہر نکل گئی یقیناً باس کے روم کی طرف۔۔
وہ مکمل سیاہ عبایا میں ملبوس تھی جس کے اوپر نہایت نفاست سے حجاب سیٹ کیا گیا تھا..
صاف ستھرے ہاتھ پاؤں ، پاؤں میں نفیس جوتی اور کالی آنکھوں میں کالا ہی کاجل لگایا گیا تھا جو اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا تھا۔۔
اسکی چال اور پرسنیلٹی میں عجیب سا رعب دکھائی دیتا تھا جسکی وجہ سے سامنے والا مخاطب ہونے سے پہلے سوچتا تھا۔۔۔
may i come in sir??
اس نے دروازہ بجا کے اندر دھکیلا اور اجازت طلب کی
yes please
انہوں نے بنا اوپر دیکھے اجازت دی۔
وہ اندر آئی جہاں مسٹر اسد آفندی اپنی چارمنگ پرسنیلٹی کے ساتھ ریوالونگ چئیر پر بیٹھے لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہے تھے۔۔
وہ یہاں پر سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھی۔۔صبح آٹھ سے شام چار بجے تک وہ ادھر ہی کام کرتی تھی۔۔
جس جگہ وہ کام کر رہی تھی یا جن لوگوں میں اسکا اٹھنا بیٹھنا تھا وہاں نقاب کو برقعے سمیت بہت معیوب سمجھا جاتا تھا اور بہت بار اسے بہت ساری کڑوی باتیں بھی سننے کو ملتیں مگر وہ صبر شکر کے ساتھ برداشت کر جاتی تھی۔۔
sit please
انہوں نے اسی طرح کام کرتے گردن جھکاۓ کہا تو وہ شکریہ ادا کر کے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
مس آیت آپ مجھے کل کی تمام میٹنگز کی تفصیلات بھیج دیں تا کہ میں کل کے ٹائمنگ
کی مناسبت سے میٹنگز فکس کر سکوں کیونکہ کل یہاں سے جلدی نکلنا ہے۔۔
اب کی بار انہوں نے اسکی طرف دیکھ کر کہا
او کے سر میں ابھی آپکو میل کر دیتی ہوں۔۔
اسکی آواز میں، چال میں ، اور انداز میں آج اداسی تھی۔۔
ہممم۔۔
وہ تھوڑے توقف سے بولے
آج آپکی خاموشی کی کوئی خاص وجہ ؟؟
انہوں نے شاید اسکی آنکھوں کی اداسی کو بھانپ لیا تھا۔۔
nothing sir
اس نے مسکرا کر جواب دیا مگر آنکھوں کی اداسی ہنوز برقرار تھی۔۔
کچھ دیر اس نے خود پر اسد آفندی کی نظریں محسوس کیں پھر کھڑی ہو گئی۔۔۔
سر ایک پریزینٹیشن بنانی ہے کل کی میٹنگ کیلیے ۔۔
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے باہر نکل گئی تھی۔۔
نا جانے کب تک بچتی رہو گی۔۔آج تک کسی بھی لڑکی نے اتنا وقت نہیں لیا۔۔
انٹرسٹنگ۔۔
وہ خود میں بڑبڑا رہا تھا جبکہ وہ کب کی جا چکی تھی آخر میں ایک شیطانی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی۔۔
سیکرٹری کے کام کے علاوہ اس سے پریزینٹیشن بھی بنوا لی جاتی تھی کیونکہ وہ بہت ذہین تھی اور اسکے مقابلے کا کوئی بھی کام نہیں کر سکتاتھا۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ اپنے کام میں اتنی مصروف ہو گئی تھی کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلا جب اچانک اس نے گھڑی کی طرف دیکھا تو وہ پانچ بجا رہی تھی۔۔اس نے بے اختیار ماتھے پہ ہاتھ مارا۔۔
وہ پورا ایک گھنٹہ لیٹ ہو چکی تھی اور پورا آفس خالی ہو چکا تھا۔۔وہ جلدی جلدی چیزیں سمیٹ کر باہر نکلی مگر دروازے پر آ کے ٹھٹھک کر رک گئی۔۔
باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی ۔اس نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں مگر کوئی رکشہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔۔
دس پندرہ منٹ اس نے وہیں رک کر ٹیکسی آ جانے یا بارش کے رک جانے کا انتظار کیا مگر نہ بارش تھمی اور نہ ٹیکسی آئی بلآخر اس نے اسی بارش میں فٹ پاتھ پر چلنا شروع کر دیا۔۔
اردگرد دیکھ رہی تھی مگر سارے رستے سنسان پڑے تھے۔۔اسکی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہوں گے بارش میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا تھا ۔۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد وه درخت کی اوٹ میں ہوگئی بارش میں پوری طرح بھیگ چکی تھی ۔۔اور خوف اور پریشانی کی وجہ سے اس پر كپكپی طاری ہو گئی تھی ۔۔
نیٹ ورک بھی نہیں آ رہا تھا ۔۔
تھوڑی دیر رکنے کے بعد اس نے دوبارہ چلنا شروع کیا۔۔
کچھ دیر کے بعد اس نے کسی چیز کے آنے کی آواز سنی
فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے اپنے ہی پڑوسی کا رکشہ دکھائی دیا۔۔۔
اس نے زور زور سے ہاتھ ہلا کر رکشہ روکا۔۔انہوں نے بھی پہچان لیا تھا اس لیے جلدی رک گیا کیونکہ بارش بہت تیز تھی اور اب ہوا بھی چلنے لگی تھی۔۔
وہ بھی مطمئن سی ہو کر انکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
السلام علیکم امی
آیت نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا تھا ۔۔
وعلیکم سلام آیت ۔۔
جلدی اندر آؤ ، اف ساری بھیگ گئی ہو
ٹھنڈ لگ جاۓ گی۔۔
امی نے جلدی سے اسے اندر کر کے حویلی کا دروازہ بند کیا تھا۔۔
پورا گھر بارش کے پانی سے بھر چکا تھا وہ دونوں بڑی مشکل سے دیوار کے ساتھ لگ کے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اپنے اکلوتے کمرے میں آ گئی تھیں۔۔
جہاں ایک چارپائی پہ اسکے ابو لیٹے تھے اور ساتھ ہی اسکے بہن بھائی بھی بیٹھے تھے۔۔
آیت نے اندر آتے ہی سب کو سلام کیا تھا۔۔
خیریت بیٹا آج اتنی دیر لگا دی۔؟؟
اسکے ابو نے بے تابی سے پوچھا
جی ابو آج کام زیادہ تھا اور پھر بارش کی وجہ سے رکشہ نہیں مل رہا تھا۔۔پیدل ہی آ رہی تھی کہ چچا فرید کا رکشہ مل گیا اور شکر ہے میں پہنچ گئی۔۔
وہ تفصیل بتا رہی تھی اور ساتھ اس نے حجاب اور عبایا اتار کے دوپٹہ لپیٹ لیا تھا۔۔
بھیگنے کی وجہ سے اسکی گلابی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔کالے لمبے بال جوڑے کی شکل میں تھے لیکن بھیگنے کی وجہ سے آیت نے انہیں کھول دیا تھا۔۔
ایسی حالت میں وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔
وہ جب عنابی ہونٹوں سے بولتی تو دیکھنے والا دل تھام کے رہ جاتا۔۔
لعنت ہے مجھ جیسے باپ پر کے اپنی اولاد کا دکھ بھی نہیں بانٹ سکتا ۔۔
بشیر شاہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ۔۔
وه ہمیشہ آیت کو دیکھ کر ، اسکی تکلیف دیکھ کر رونے لگتے تھے ۔۔
وه اپنے بچوں کی تکلف برداشت نہیں کر سکتے تھے لیکن دو سال سے فالج کی بیماری سے لڑتے ہوۓ وہ یہی کر رہے تھے۔۔
ابو ایسی باتیں نہ کیا کریں ساری عمر آپ نے ہی تو کمایا ہے نا۔۔
سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔
وہ اٹھ کے ابو کے سینے سے لگی بول رہی تھی۔۔
اچھا چاۓ تو۔۔۔۔
وہ چاۓ کا کہنے لگی تھی مگر اسے یاد آیا کہ مہینے کے آخر میں تو آٹے کی بھی دقت ہوتی ہے پھر دودھ پتی تو بہت دور کی بات ہے اس لیے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
کیا چاۓ تو آیت؟؟
نورین بیگم نے استفسار کیا
آں۔۔۔۔۔ہاں میں کہہ رہی تھی چاۓ تو آج دو بار پی لی آفس میں۔۔
اس نے بڑی مشکل سے جھوٹ بولا حالانکہ بھیگنے کی وجہ سے اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی اور چاۓ پینے کا دل بھی کر رہا تھا۔۔۔
ابھی اس نے بات ختم کی تھی کہ موبائل بجا۔۔
آیت نے دیکھا تو آئمہ کا نام جگمگا رہا تھا۔۔
اس نے کال ریسیو کی سلام دعا کے بعد اسکی بات سنی اور پھر بولی
آئمہ میں ابھی گھر آئی ہوں تم سے صبح اس بارے میں بات کرونگی۔۔
یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔
آئمہ اسکی کالج کی دوست تھی اور اب تو یونی کے بھی چار سال پورے ہو چکے تھے۔۔
وہ گہری باتیں سننے اور کرنے کی عادی تھی اس لیے اکثر دوستیں اس سے مشورہ لیا کرتیں۔۔
اسکی ذہانت اور خوبصورتی کم از کم اس قابل نہ تھی کہ وہ ایسی زندگی جیے جیسی جی رہی ہے
خیر اسی کا نام تو قسمت ہے۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

Comments
Post a Comment