جل پری قسط 1 Kahanistan

💖جل پری 💖


قسط ؛1



احسان جوار پور کے گاوں میں رہتا تھا وہ ایک 

خوبصورت گاوں تھا 

اس کے پاس ہی ایک ندی 

بہتی تھی ہر طرف ہریالی تھی 

احسان ایک زمیندار کا بیٹا تھا 

اور میٹرک کرنے 

کے بعد وہ اپنی کھیتوں پر کام کرنے لگا اس 

کا باپ بہت خوش تھا کہ اسے ایک محنتی اولاد ملی وہ بھی احسان کی ہر خواہش 

پوری کرتا تھا 

یہ چودھویں کی راتیں تھیں اور چاند پورے جوبن پر تھا ایک رات احسان اپنے کھیتوں 

کو پانی لگا رہا تھا ان کے کھیت چونکہ

ندی کے پاس تھے اس لیے وہاں ندی کا منظر 

واضع نظر آتا تھا 

اس نے دیکھا کے ندی کے کنارے کوٸی بیٹھا 

ہوا ہے وہ ندی کی طرف بڑھنے لگا کے کوندیم

ہو سکتا ہے اتنی رات میں 

وہ قریب جا کر ایک درخت کے پیچھے چھپ

گیا اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی ندی میں

پاٶں لٹکاۓ بیٹھی ہے اس کے بال اس کی کمر 

تک بڑھے ہوۓ ہیں

 وہ حیران ہوا کہ لڑکی 

جب پانی کی طرف اشارہ کرتی تو مچھلیاں

پانی سے باہر کی طرف اچھل کر باہر نکل آتی 

اور پھر اندر چلی جاتیں

وہ وہاں سے واپس آگیا کہ کہیں کوٸی چڑیل

یا بد روح نہ ہو

اگلی صبح وہ گھر آگیا اس کا دھیان سارا 

دن اسی طرف رہا کہ وہ کون ہو سکتی ہے

ادھر گاوں کے چوکیدار جو کہ ندی کے پل 

پر رات کو پہرہ دیتا تھا اس نے گاوں والوں 

کو ندی کے پاس کسی لاش کی خبر دی 

وہ لوگ لاش دیکھنے گۓ لاش کی حالت یہ 

تھی کہ جگہ جگہ سے اس کا گوشت نوچا

گیا ہو

اب احسان کو یقین ہو گیا

 کہ وہ کوٸی 

چڑیل ہی ہو گی اس کے بعد 

وہ رات کے بجاۓ

دن میں کھیتوں کو پانی لگاتا

کھیتوں کو پانی ندی کا لگایا جاتا تھا

ایک دفعہ احسان کی باری رات کو آگٸ

دھان کی فصل تھی 

جس کو پانی کی اشد

ضرورت تھی اس لیے اس کو مجبوری میں 

رات کو کھیتوں پر جانا پڑا

وہ کھیتوں سے ندی کی طرف دیکھا اس دن چاند کی چودہ تھی وہ وہی موجود تھی 

اس کا دل دھڑکنے لگا

 وہ اسے دیکھنے کے لیے پھر ندی طرف بڑھ گیا وہ چھپا ہوا اس دوشیزہ کو دیکھ رہا تھا کہ اس دوشیزہ کی نظر اس پر پڑھ گٸ وہ بولی کون ہے وہاں

خود کو میرے سامنے پیش کرو ورنہ جان

سے ہاتھ دھو بیٹھو گے

آواز میں ایسا رعب تھا کہ احسان نہ چاہتے 

ہوۓ بھی اس کے سامنے آگیا

وہ بولی کون ہو تم اور یہاں کیا کررہے ہو لیکن 

احسان تو جیسے اس کے حسن میں کھو سا

گیا تھا نیلی آنکھیں دودھیا رنگت سنہری بال 

وہ کوٸی پری لگ رہی تھی 

وہ پھر غصے سے 

بولی میری بات کا جواب دو وہ ہڑبڑایا

جی میں پاس کے کھیتوں میں پانی لگانے آیا 

تھا میں نے دیکھا کہ یہاں کوٸی بیٹھا ہوا 

ہے اس لیے دیکھنے آگیا لڑکی کے پاوں ابھی 

بھی پانی میں تھےوہ اس کی معصومیت دیکھ کر مسکرادی وہ بولا آپ کون ہو وہ 

بولی میں ہر چودھویں کو یہاں پر آتی ہو یہاں آکر مجھے سکون ملتاہے  

احسان نے پوچھا کہ وہ مچھلیاں

 کیسے باہر

آجاتی ہیں وہ تھوڑی سی پریشان ہو گٸ پھر

بولی وہ ایک راذ ہے وعدہ کرو تم کسی کو 

نہیں بتاو گے وہ وعدہ کرتا ہے میرا نام صفینہ ہے یہ کہہ کر 

 وہ اپنے پاوں پانی سے نکال دیتی ہے احسان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے کیونکہ اس کےپاوں کی جگہ مچھلی کا حصہ ہوتا ہے 

وہ اسے کہتی ہے

ڈرو نہیں میں ایک جل پری ہوں وہ مچھلیاں 

میرا ہر حکم مانتی ہیں

 احسان نے کہا کہ اس دن اس آدمی کو تم نے کیوں مارا تھا وہ کہنے لگی 

ہاں وہ ایک شیطان سادھو کا چیلہ تھا جو مجھے قابو کر کے طاقتور بننا چاہتا تھا وہ اس کے کہنے

پر مجھے پکڑنے آیا تھا لیکن شاید اسے میری

طاقت کا اندازہ نہی تھا میرے حکم پر مچھلیوں نے اسے ختم کر دیا وہ احسان سے 

بولی کہ تم مجھ سے دوستی کرو گے مجھے 

اپنی تنہاٸی کے لیے

 ایک دوست کی ضرورت 

ہے احسان نے کچھ سوچتے ہوۓ ہاں کردی

وہ خوش ہو گٸ اور اگلی چودھویں کو ملنی  

کا وعدہ کر کے پانی میں کود کر غاٸب ہو گٸ

احسان حیرت کا بت بنا اس سب کو ایک 

خواب سمجھ رہا تھا

وہ واپس گھر آگیااور اگلی چودھویں کا

انتظار کرنے لگا

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments